.

جاسوسی کے شبے میں روسی سائنسدانوں کے گرد گھیرا تنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے کہا ہے کہ غیرملکی جاسوسی روسی سائنسدانوں کی مسلسل چوبیس گھنٹے کی بنیاد پرنگرانی کر رہے ہیں۔ ماسکو کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف روسی سائنسدانوں پر نئی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ روسی سائنسدانوں پرعاید کی گئی نئی پابندیوں کی وجہ سے سائنسدان سخت غم وغصے میں ہیں۔ نئی پابندیوں کے تحت ان کے بیرون ملک رابطوں پر پابندی عاید کی گئی ہے۔

روسی وزات تعلیم وسائنسی تحقیقات کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکلر میں سائنسدانوں پر نئی پابندیوں کی وضاحت کی گئی ہے۔ جامعات اور تعلیمی اداروں سے وابستہ محققین پرغیر ملکی وفود سے ملاقات پرپابندی عاید کی گئی ہے۔ انہیں سائبرآلات اور ذرائع کے استعمال کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے اور وہ صرف روس کے سرکاری اداروں تک محدود رہ گئے ہیں۔

وزارت تعلیم کی طرف سے کہا گیا ہے اگر کوئی سائنسدان یا محقق کسی غیر ملکی سے ملاقات کرتا ہے تو اسے اس کے لیے مجاز انتظامیہ سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسے ملاقات کی ایک مفصل رپورٹ بھی حکام بالا تک پہنچانا ہوگی۔

دوسری طرف روسی سائنسدانوں نے ان پابندیوں کو غیر منطقی اور نامعقول قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیوں کے نتیجے میں ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مشکلات پیش آئیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ روسی حکومت کی طرف سے عاید کی جانے والی پابندیوں سے ماسکو ایک بار پھر سوویت یونین کے دور کی طرف پلٹ رہا ہے۔