.

جبل الطارق نے ایرانی جہاز واپس اور اس کا کپتان رہا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے زیر انتظام جبل الطارق کی انتظامیہ نے ایران تیل بردار جہاز کے کپتان کو رہا کرتے ہوئے جہاز کو بھی واگذار کر دیا ہے۔

اس سے قبل برطانوی اخبار The Sun نے جبل طارق (جبرالٹر) کے وزیراعظم فابیان پیکارڈو کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ برطانیہ کے زیر انتظام جبل الطارق ریجن کے قبضے میں موجود ایرانی تیل بردار جہاز کو واگذار کر دے گا۔ برطانوی رائل میرینز نے اس جہاز کو جولائی میں بحیرہ روم میں تحویل میں لے لیا تھا۔

پہلی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ جبرالٹر انتظامیہ کپتان کو رہا کرنے پر آمادہ ہے مگر ایرانی جہاز لوٹانے میں پس وپیش سے کام لے رہی ہے۔

اخبار نے بتایا کہ پیکارڈو ایرانی تیل بردار جہاز (گریس 1) کی تحویل میں توسیع کا حکم جاری نہیں کریں گے، ان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جہاز اب شام کا رخ نہیں کرے گا۔

برطانیہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ تیل بردار جہاز تیل کی کھیپ شام منتقل کر کے یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ ایران کی جانب سے اس امر کی تردید کی جا چکی ہے۔

ہسپانیہ کے جنوب میں جبل طارق کے حکام نے ایرانی تیل بردار جہاز کو جولائی میں اس وقت روکا تھا جب وہ برطانیہ کے زیر انتظام جبل طارق کے جنوب میں 4 کلو میٹر کی دوری پر تھا۔

پاناما کی سمندری اتھارٹی کے مطابق برطانوی رائل نیوی کی جانب سے تحویل میں لیا جانے والا ایرانی سپر آئل ٹینکر (گریس 1) 29 مئی سے پاناما کے بین الاقوامی جہازوں کے ریکارڈ میں باقی نہیں رہا۔ اتھارٹی نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ اس نے (گریس 1) کو اس انتباہ کے بعد اپنے ریکارڈ سے خارج کیا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ مذکورہ جہاز دہشت گردی کے لیے فنڈنگ یا اس سے متعلق سرگرمی میں شریک رہا ہے۔

اگرچہ اس سپر آئل ٹینکر پر پاناما کا پرچم لہرا رہا ہے تاہم ایران نے جہاز کے لیے اپنی ملکیت کا اعلان کرتے ہوئے اس کے پکڑے جانے پر اعتراض کیا۔

جبل طارق کے حکام نے انکشاف کیا تھا کہ زیر تحویل ایرانی تیل بردار جہاز پر 28 افراد موجود ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد بھارتیوں کی ہے۔ ان کے علاوہ پاکستان اور یوکرین سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں۔