.

سابق سوڈانی سیکورٹی چیف اور اہل خانہ کا امریکا میں داخلہ ممنوع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اعلان کیا ہے کہ سوڈان کے سیکورٹی ادارے کے سابق چیف صلاح قوش اور ان کے اہل خانہ کے امریکا میں داخلے کی ممانعت ہو گی کیوں کہ قوش سوڈان میں بدعنوانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مقدمات میں ملوث ہیں۔

پومپیو نے بدھ کے روز اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں لکھا کہ "سوڈان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں قوش اور دیگر افراد کا احتساب عمل میں آئے گا"۔

امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "انتظامیہ کے پاس مصدقہ معلومات ہیں کہ صلاح قوش سیکورٹی اینڈ نیشنل انٹیلی جنس ادارے کی سربراہی کے دوران تشدد اور عقوبت کی کارروائیوں میں ملوث رہے"۔

امریکا میں داخلے کی ممانعت کے فیصلے کا اطلاق صلاح قوش کی اہلیہ عواطف احمد سعید اور ان کی بیٹی شیماء صلاح پر بھی ہو گا۔

سوڈان میں اپریل میں صدر عمر البشیر کو معزول کرنے والی عبوری کونسل کی قیادت کے بیان کے مطابق صلاح قوش نے ملکی حالات کو عوامی انقلاب میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

تبدیلی واقع ہونے کے دو روز بعد قوش اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ عبوری کونسل کے ذمے داران نے اُس وقت بتایا تھا کہ قوش کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ بعد ازاں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ نامعلوم مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔

سوڈان میں سرکاری استغاثہ پہلے ہی عبوری عسکری کونسل سے یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ سیکورٹی ادارے کے سابق ڈائریکٹر صلاح عبداللہ قوش کو حالیہ عوامی احتجاجات کے دوران سوڈانی مظاہرین کے قتل کے الزام میں طلب کیا جائے۔

استغاثہ کے ذرائع نے العربیہ نیوز چینل کو بتایا کہ انہیں قوش کے بیرون ملک سفر کرنے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ یہ موقف ان خبروں کے بعد سامنے آیا جن میں کہا گیا تھا کہ قوش امریکا اور مصر کا بیرونی سفر کر رہے ہیں۔