.

سوڈان: دیواروں پر سے انقلاب کی ترجمان تصاویر مٹانے پر احتجاج کنندگان کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں احتجاجی تحریک نے دارالحکومت خرطوم کے مختلف علاقوں میں دیواروں پر بنی اُن تصاویر اور نقوش کو مٹا ڈالنے کی مذمت کی ہے جو احتجاج کی علامت بن چکے تھے۔ احتجاجی تحریک نے عسکری کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دیواروں کی صفائی کی مہم کو روک دے اور احتجاج کنندگان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مزید تصاویر اور نقوش بنائیں۔

عوامی احتجاج کی قیادت کرنے والی فریڈم اینڈ چینج فورسز کے اتحاد نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا کہ "ہم اس رویے کی مذمت کرتے ہیں ... ہم اسے انقلاب کے ایک اہم خدوخال کو مسخ کرنے کی غرض سے واضح پامالی شمار کرتے ہیں"۔

گذشتہ دنوں کے دوران دارالحکومت کی سڑکوں کی زینت بننے والے ان رنگین نقوش اور تصاویر پر رنگ و و روغن پھیر دیا گیا۔ یہ دیواریں صدر عمر البشیر کی معزولی کا ذریعہ بننے والی احتجاجی تحریک کے اولین مراحل میں احتجاج کنندگان کے جذبات کی ترجمانی کر رہی تھیں۔

ان میں بہت سے نقوش اور خاکے خرطوم میں فوج کی جنرل کمان کے ہیڈکوارٹر کے علاقے میں دیواروں پر بنائے گئے۔ یہ وہ ہی جگہ ہے جہاں نوجوان احتجاج کنندگان نے کئی ہفتوں تک دھرنا دیا تھا۔ بعد ازاں 3 جون کو خون ریز دھاوے کے ذریعے دھرنا دینے والوں کو منتشر کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

علاوہ ازیں فن کاروں نے احتجاجی تحریک کے دوران موت کو گلے لگانے والے افراد کے چہروں کو اپنے گھروں کے آگے دیواروں پر بنانے کے لیے ایک مہم کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والوں کی یاد تازہ کرنا تھا۔

احتجاجی تحریک نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ دیواروں پر بنی تصاویر کو صاف کر دینا ایک بے کار عمل ہے۔ تحریک نے عسکری کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دیواروں پر سے تصاویر اور تحریر مٹانے کا سلسلہ فوری طور پر روک دے۔ اس کے ساتھ ہی انقلابی تحریک کے تمام شرکاء پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آزادی اظہار کا حق استعمال کرتے ہوئے دیواروں پر تصویر کشی اور نقوش بنانے کا عمل جاری رکھیں۔

سوڈانی مصور لطفی عبدالفتاح (35 سالہ) نے باور کرایا ہے کہ خرطوم کی دیواروں پر سے یادگار نقوش مٹانے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فوجی ادارہ اپنی پرانی روش پر لوٹ آیا ہے۔ لطفی کے مطابق "جب میں نے یہ سب کچھ دیکھا تو میں بہت دل برداشتہ ہوا کیوں کہ جب ہم نے یہ سب کچھ بنایا تھا تو اُس وقت ہم اس احساس کا اظہار کر رہے تھے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ تاہم اب ہمیں موصول ہونے والے اشارے یہ خبر دے رہے ہیں کہ حقیقی تبدیلی اور حقیقی آزادی نام کی کوئی چیز نہیں ہے"۔