.

طرابلس : معیتیقہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر راکٹ باری ، وادی الربیع میں جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ جمعے کو علی الصبح دارالحکومت طرابلس میں معیتیقہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کئی طیاروں کے اُترنے کے دوران متعدد راکٹ آ کر گرے۔ اسی طرح طرابلس کے جنوب میں وادی الربیع کے علاقے میں پھر سے جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لیبیا کی فوج نے طرابلس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 4 اپریل سے آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ طرابلس اس وقت وفاق کی حکومت کا صدر مقام ہے۔

جمعرات کے روز لیبیا کی قومی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے طرابلس سے 120 کلو میٹر مغرب میں واقع زوارہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ فوج کے سرکاری ترجمان احمد المسماری کے مطابق یہ ہوائی اڈہ ترکی ک ڈرون طیاروں کے اڑنے کے واسطے استعمال کیا جا رہا ہے۔

لیبیا کی فوج نے طرابلس کے فضائی اڈے میں ترکی کے ڈرون طیاروں کے لیے قائم مرکزی آپریشنز اینڈ کنٹرول روم کو تباہ کر دیا۔ اس سے قبل گذشتہ ماہ وفاق کی حکومت کی فورسز نے لیبیا کے وسط میں الجفرہ کے علاقے میں حفتر کی فوج کے ڈرون طیاروں کو تباہ کر دیا تھا۔

بدھ اور جعمرات کی درمیانی شب طرابلس میں معیتیقہ کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اندر راکٹ گرنے کے نتیجے میں ایک سیکورٹی گارڈ ہلاک اور دیگر کئی زخمی ہو گئے۔

یہ بم باری اور دو طرفہ حملے اقوم متحدہ کے مشن کی جانب سے تجویز کردہ عید الاضحی کے دوران "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی" کے اختتام پذیر ہونے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے مطابق اس معرکہ آرائی کے آغاز کے بعد سے ایک ہزار کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ 5 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔