.

کیا ٹرمپ "گرین لینڈ" کو خریدنے میں دل چسپی رکھتے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدارت کی کرسی پر براجمان ہونے سے قبل پراپرٹی کی عظیم سلطنت رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ ڈنمارک کے زیر انتظام جزیرے گرین لینڈ کو خریدنے کے خواہش مند نظر آ رہے ہیں۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق کاروباری شخصیت (ٹرمپ) وائٹ ہاؤس میں اپنے مشیروں سے کئی بات یہ معلومات حاصل کر چکے ہیں کہ امریکا کی جانب سے اس جزیرے کو خریدنے کے کیا امکانات ہیں۔ گرین لینڈ کا زیادہ تر حصہ برف میں ڈھکا رہتا ہے اور یہاں کی آبادی 56 ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔

اخبار نے مزید بتایا کہ امریکی صدر اس قدرتی علاقے کے وسائل اور اس کی جیوپولیٹیکل اہمیت میں خاصی دل چسپی رکھتے ہیں۔

اخبار میں سامنے آنے والی رپورٹ پر وائٹ ہاؤس نے سرکاری طور پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا جب کہ واشنگٹن میں ڈنمارک کے سفارت خانے نے بھی اس خبر پر تبصرے کے حوالے سے فور طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

گرین لینڈ ایک بڑا جزیرہ ہے جہاں ماحولیاتی حرارت کے اثرات واضح طور پر نمایاں ہیں۔

یہاں 2003 سے 2013 کے درمیان گلیشیئر پگھلنے کے عمل میں چار مرتبہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس عمل سے اطراف میں واقع سمندروں کی سطح بلند ہو جاتی ہے۔

سال 2016 میں اپنے انتخاب کے بعد ہی ٹرمپ نے ،، جن کو ماحولیاتی تبدیلی کی حقیقت پر شکوک ہیں ،، امریکا کو ماحولیات سے متعلق پیرس معاہدے سے نکال لیا۔ ٹرمپ نے باقاعدہ طور پر سابق ڈیموکریٹک صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے ماحولیاتی اقدامات سے چھٹکارہ حاصل کرنا شروع کر دیا جو اس نے آٹھ برسوں کے دوران کیے تھے۔

ایسا لگتا ہے کہ ریپبلکن صدر پراپرٹی سیکٹر سے مکمل طور پر اپنی جان چھڑا نہیں پائے ہیں۔ گذشتہ سال سنگاپور میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کے ساتھ سربراہ ملاقات میں ٹرمپ نے شمالی کوریا میں سیاحت کے شعبے میں ممکنہ ترقی پر زور دیا۔ اس روز انہوں نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا میں شان دار ساحل ہیں ..."جہاں شان دار اپارٹمنٹس تعمیر کیے جا سکتے ہیں .. کیا ایسا نہیں ہے ؟"۔