حوثیوں کی بغاوت کے سبب یمن کی معیشت کو 54.7 ارب ڈالر کا نقصان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمنی حکومت کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے چار برس سے زیادہ عرصے سے جاری بغاوت اور جنگ کے سبب یمنی معیشت کو اب تک پہنچنے والے نقصان کا اندازہ 54.7 ارب ڈالر ہے۔

مرکزی ادارہ برائے شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بغاوت اور جنگ کے اثرات میں مجموعی مقامی پیداوار میں فی کس اوسط آمدنی کا سکڑاؤ شامل ہے۔ یہ اوسط 2014 میں تقریبا 1287 ڈالر تھی جو 2018 میں 70% کم ہو کر 385 ڈالر رہ گئی۔ اس کمی کا مطلب ہے کہ مزید یمنی شہری غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سال 2018 کے اختتام پر غربت کی شرح بڑھ کر 90% سے زیادہ ہو گئی۔ اس کے مقابلے میں 2014 کے اختتام پر یہ تناسب 49% تھا۔

خبروں سے متعلق ویب سائٹ "نيوز يمن" پر جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2014 کے بعد 2018 تک مجموعی قومی پیداوار کے حجم میں واضح کمی آئی ہے۔ سال 2014 میں یہ حجم 31.7 ارب ڈالر تھا۔ اس کے بعد بتدریج کم ہو کر 2015 میں 24.8 ارب ڈالر، سال 2016 میں 17.6 ارب ڈالر، سال 2017 میں 15.3 ارب ڈالر اور سال 2018 میں 14.4 ارب ڈالر تک نیچے آ گیا۔

مرکزی ادارہ برائے شماریات کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے جنگ اور بغاوت جاری رہنے کی صورت میں یمن کی مجموعی قومی پیداوار کے خسارے میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ حوثیوں کی بغاوت اور اس کے دور رس اثرات نے مالی اور انسانی سرمایہ کاری کو براہ راست نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ یہ لاکھوں یمنیوں کی اندرون و بیرون ملک نقل مکانی کا بھی سبب بنی اور یمن کی معیشت کے مستقبل پر اعتماد متزلزل ہو گیا۔

کئی سال سے جاری بغاوت اور جنگ کے سبب یمن کے بینکنگ سیکٹر میں سیالیت کا شدید بحران پیدا ہوا اور ریاست کے عام بجٹ میں خسارہ واقع ہوا۔

رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا نے ریاست کے اکثر ملازمین اور ریٹائرڈ اہل کاروں کو تین سال سے تنخواہوں اور پینشنوں سے محروم کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ خدمات عامہ کے کئی پروگرام معطل ہو چکے ہیں اور بہت سی اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں۔ ان خدمات میں بجلی، تیل اور گیس شامل ہیں جو یمنی معیشت کے مرکزی امدادی ذرائع کی حیثیت رکھتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں