سوڈان کی تمام نمائندہ قوتوں نے تاریخی عبوری سمجھوتے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں تمام سیاسی قوتوں اور مسلح افواج کی نمائندہ قیادت نے عالمی وفود کی موجودگی میں باضابطہ طور پر تاریخی عبوری سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اپوزیشن جماعت 'فریڈم اینڈ چینج فورسز' کی طرف سے احمد ربیع کو نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔ ہفتے کے روز خرطوم میں ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن کی طرف سے احمد ربیع نے عبوری معاہدے پر دستخط کیے۔ اس کے ساتھ عبوری عسکری کونسل کی طرف سے محمد حمدان دقلو المعروف حمیدتی نے دستخط کیے۔ اس موقع پر مصری وزیراعظم اور افریقی یونین کے ہائی کمیشن کے چیئرمین سمیت دیگرعالمی شخصیات اور مبصرین موجود تھے۔

سوڈان میں فوج اور سول قیادت پر مشتمل شراکت اقتدار کے فارمولے کی حتمی منظوری کے موقع پر تمام شرکاء نے تالیاں بجا کر اس عظیم پیش رفت پرخوشی کا اظہار کیا۔

تقریب کے آغاز میں 'سوڈان کی خوشی' کے عنوان سے تیارکردہ ایک دستاویزی فلم پیش کی گئی۔ یہ دستاویزی فلم سوڈان میں حالیہ انقلاب کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔

سوڈان میں منعقدہ اعلیٰ سطحی تقریب میں عسکری کونسل کی قیادت، اپوزیشن جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے رہ نمائوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر ایتھوپیا کے وزیراعظم آبی احمد، جنوبی سوڈان کے صدر سلفاکیر، روانڈا کے صدر پال کاگامی، سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر، بحرین کے وزیرخارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ، ان کے کویتی ہم منصب صباح خالد الحمد الصباح، مصری وزیراعظم مصطفیٰ مدبولی، افریقی ثالث محمد الحسن لبات، ایتھوپیا کے مندوب محمود دریر، عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔

سمجھوتے کے تحت 21 اگست 2019ء کو عبوری سوڈان کے عبوری وزیراعظم عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

خیال رہے کہ سوڈان میں تین عشرے تک صدر رہنے والے عمرالبشیر کی فوج کی جانب سے برطرفی کے بعد مسلح افواج اور اپوزیشن نے ایک مشترکہ شراکت اقتدار کے فارمولے پر دسختط کیے گئے۔ اس فارمولے کے تحت ساڑھے تین سال کے عبوری عرصے میں فوج اور سول قیادت باری باری ملک کی زمام کار سنھبالے گی۔ اس دوران ملک کے لیے ایک نیا دستور تیار کیا جائے گا اور عبوری عرصے کے بعد ملک میں صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں