یمن کے یتیم بچے بھی حوثیوں کی دہشت گردی میں غیر محفوظ

الحدیدہ کا یتیم خانہ بند، دسیوں یتیم بچے در بہ در

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں الراوعہ شہر میں قائم ایک یتیم خانے پر چھاپہ مار کر وہاں پر موجود دسیوں یتیم اور بے سہارا بچوں کو نکال دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے ایک مقامی سپروائزر ابو المجد یاسر المرونی نے حوثی ملیشیا کے ہمراہ یتیم خانے کے عمارت قبضے میں لینے کے ساتھ وہاں پر موجود دسیوں یتیم بچوں کو بے دخل کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمارت کو حوثی ملیشیا موسم گرما کے پروگرامات کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حوثی کمانڈر المرونی کے ساتھ المراوعہ ڈاریکٹوریٹ کا ایک دوسرا سینیر عہدیدیدار ادھم ثوابۃ بھی موجود تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ یتیم خانہ اور اس کے زیر انتظام اسکول کی عمارت کو حوثی ملیشیا کے پروگرامات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کے جبر و تشدد کی وجہ سے یتیم خانے کی انتظامیہ اپنا کام بند کرنے اور یتیم بچوں کو وہاں سے بے دخل کرنے پر مجبور ہو گئی تھی۔ یتیم خانے سے نکلنے کے بعد سیکڑوں بچے بے یارو مدد گار ہیں اور انہیں کوئی ٹھکانہ میسر نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں