.

سعودی ماڈل کا انسانی حقوق کی خود ساختہ علمبردار ہم وطن کے خلاف ہتکِ عزت کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی سپر ماڈل روان عبداللہ ابو زید المعروف ’ماڈل روز‘ نے نیویارک میں مین ہیٹن کی عدالتِ عظمیٰ میں ہتکِ عزت پردعویٰ دلا پانے کی ایک درخواست دائر کی ہے۔ عدالت سے خود کو ہراساں کیے جانے پراپنی ایک ہم وطن سے پچاس لاکھ ڈالر ہرجانے کے طور پردلوانے کی استدعا کی ہے۔

ابو زید نے اپنے دعویٰ میں موقف اختیار کیا ہے کہ امریکا میں 2012ء میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والی فوٹو گرافر اور خواتین کے حقوق کی خود ساختہ علمبردار دناہ المایوف انھیں ہراساں کرتی رہی ہیں اور انھوں نے ان کی شہرت کو مذموم مقاصد کے لیے نقصان پہنچایا ہے۔دناہ المایوف نے اپنے طور پر یہ دعویٰ کیا تھا کہ سعودی سُپر ماڈل ابو زید سعودی عرب میں خواتین کے خلاف جبر اور پابندیوں پر نقل مکانی کرکے امریکی شہر لاس اینجلس میں منتقل ہوئی تھیں۔

لیکن سُپر ماڈل نے المایوف کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکا میں انٹرئیر ڈیزائن کے مضمون میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے منتقل ہوئی تھیں۔انھوں نے اپنی کامیابی کو اپنے وطن سعودی عرب میں موجود اپنی دوستوں اور خاندان کا مرہون منت قرار دیا ہے۔

ابو زید نے عدالت میں دائر کردہ اپنی درخواست کہا ہے کہ المایوف نے سوشل میڈیا پر ان کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے لیے الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔حتیٰ کہ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ وہ ٹیکس ادا نہیں کرتی ہیں۔

دعویٰ دلا پانے کی اس درخواست کے مطابق المایوف نے ماڈل ابوزید کے ساتھ کام کرنے والے مختلف برانڈز پر زور دیا تھا کہ وہ ان کا بائیکاٹ کردیں۔اس کے بعد متعدد کمپنیوں نے ان سے کاروباری ناتا توڑ لیا تھا جس سے سعودی ماڈل کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

ابو زید اس وقت تین امریکی کمپنیوں گیس ، وکٹوریا سیکرٹ اور سواروفسکی کی نمایندہ ہیں۔