.

چاڈ کے مشرقی حصے میں درجنوں ہلاکتوں کے بعد ایمرجنسی نافذ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چاڈ کے صدر ادریس دیبی نے اتوار کے روز ملک کی دو مشرقی ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان رواں ماہ کے دوران نسل پرست جماعتوں کے درمیان شدید جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

صدر کے دفتر کے مطابق ایمرجنسی کا نفاذ سیلا اور کوادائی کے علاقوں میں تین ماہ کے لیے ہو گا۔ یہاں نو اگست سے چرواہوں اور کاشت کاروں کے درمیان لڑائی میں 50 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

صدر دیبی نے اپنے سیلا کے دورے کے دوران ایک بیان میں کہا کہ "اب کے بعد سے ہم عسکری فورسز تعینات کریں گے تا کہ علاقے میں آبادی کی سیکورٹی کو یقینی بنایا جا سکے .. ہمیں تمام شہریوں کو غیر مسلح کرنا ہوگا"۔

چاڈ کے مشرقی علاقوں میں زاغاوا نسل سے تعلق رکھنے والے اونٹوں کے چرواہوں اور کوادیان نسل کے کاشت کاروں کے درمیان پرتشدد کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ خشک سالی اور آبادی کے اضافے نے بھی تنازع کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے۔