امریکا کروز میزائل کے تجربے سے فوجی کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے: روس

روس کسی اشتعال انگیزی میں جلدی نہیں کرے گا: روسی نائب وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کی طرف سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے نئے میزائل تجربے پر چین اور روس نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی میزائل تجربے سے عالمی سطح پر ہتھیاروں کے حصول کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

ماسکو اور بیجنگ نے واشنگٹن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے میزائل تجربے سے عالمی سطح پر ایک نئی تشویش پیدا ہوسکتی ہے۔

منگل کے روز ماسکو کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکا نے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ کرکے فوجی کشیدگی کو بڑگاھنے کی کوشش کی ہے۔ امریکا نے یہ تجربہ روس کے ساتھ طے پائے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں کی روک تھام کے معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا۔

روسی نائب وزیر دفاع سیرگی ریابکوف نے خبر رساں ایجنسی 'ٹاس' کو بتایا کہ امریکی میزائل تجربے کا معاملہ کافی افسوس ناک ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا فوجی کشیدگی کو ہوا دینے کی راہ پر چل رہا ہے۔ ہم اس طرح کی اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دیتے۔

درایں اثناء چین نے بھی امریکا کے میزائل تجربے پر شدید تنقید کی ہے۔ کیلی فورنیا کے ساحل سے داغے گئے میزائل کے بارے میں بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے اسلحہ کے حصول کی ایک نئی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔

خیال رہے کہ امریکا نے سوموار کے روز ایک بیان میں درمیانے فاصلے تک مار کرنےوالے میزائل کا تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ تجربہ امریکا اور روس کے درمیان 1987ء کو طے پائے معاہدے کے خاتمے کے بعد کیا گیا ہے۔

سابق سوویت یونین اور امریکا کے درمیان طے پائے معاہدے میں دونوں ملکوں نے درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے تجربات نہ کرنے یا کرنے سے قبل ایک دوسرے کو اعتماد میں لینے کا عہد کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں