ایرانی تیل بردار جہاز کی مدد "دہشت گردی کی حمایت" ہو گی: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ نے باور کرایا ہے کہ پیر کے روز جبل الطارق سے کوچ کر جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز (گریس 1) کی مدد کو "دہشت گرد تنظیموں" کی حمایت کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے پیر کے روز بتایا کہ ہم نے یونان کو آگاہ کر دیا کہ ایرانی تیل بردار جہاز غیر قانونی طور پر تیل کو شام منتقل کر رہا ہے .. ہم نے ایرانی تیل بردار جہاز کے حوالے سے اپنا مضبوط مخالف موقف یونانی حکومت کو پہنچا دیا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ طویل ہفتوں تک تحویل میں رکھنے کے بعد ایرانی تیل بردار جہاز کو کوچ کی اجازت دینا افسوس ناک ہے۔

فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا ک برطانیہ کے زیر انتظام ریجن کی حکومت کا فیصلہ "انتہائی افسوس ناک ہے"۔ پومپیو کے مطابق اس تیل بردار جہاز پر لدی کھیپ کی فروخت سے تہران کو ایرانی مسلح افواج کی فنڈنگ کا موقع ملے گا جنہوں نے دنیا بھر میں دہشت اور تباہی پھیلانے کے ساتھ ساتھ امریکیوں کو قتل کیا۔

جبل الطارق کی حکومت نے اتوار کے روز اپنے ساحل کے مقابل ٹھہرے ہوئے ایرانی تیل بردار جہاز کے خلاف امریکی وارنٹ کو مسترد کر دیا تھا۔

ایرانی تیل بردار جہاز نے اپنے ملک کا پرچم لہرایا اور ایک نئے نام کا حامل بن گیا۔

جبل الطارق کے حکام نے ایک بیان میں کہا کہ "یورپی قانون کے مطابق جبل طارق کی حکومت امریکا کی جانب سے مطلوب مدد پیش نہیں کر سکتی" ... کیوں کہ واشنگٹن ایران پر امریکی پابندیوں کو بنیاد بنا کر تیل بردار جہاز کو تحویل میں رکھنے جانے کا خواہاں ہے۔

برطانوی شاہی میرینز نے چار جولائی کو جبل طارق میں ایرانی تیل بردار جہاز (گریس 1) کو قبضے میں لے لیا تھا۔ اس اقدام کی وجہ یہ شک تھا کہ یہ بحری جہاز شام کو تیل منتقل کر رہا ہے جب کہ یہ اقدام یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں