.

بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست کشمیر میں مسلح جھڑپ، دو افراد مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام متنازع ریاست جموں و کشمیر میں بدھ کو جھڑپ میں ایک پولیس افسر سمیت دو افراد مارے گئے ہیں۔

بھارتی حکام کے مطابق کشمیری حرّیت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان محاصرہ زدہ وادی کے شمالی ضلع بارہ مولا میں جھڑپ ہوئی ہے اور اس میں ایک کشمیری جنگجو مارا گیا ہے۔ پولیس نے ایک ٹویٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ جنگجو مقامی تھا اور لشکر طیّبہ سے وابستہ تھا۔

بھارت نے ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو پانچ اگست کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز اور کشمیری جنگجوؤں کے درمیان یہ پہلی مسلح جھڑپ ہے۔ بھارت نے متنازع ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے سے قبل وہاں اپنے مزید ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات کردیے تھے۔ بھارت کے اس اقدام کے بعد سے پوری مقبوضہ وادی کشمیر میں شدید کشیدگی پائی جارہی ہے۔

ریاست میں گذشتہ دو ہفتے سے انٹرنیٹ اور سیل فون کی سروس بند ہے۔ البتہ لینڈ لائن ٹیلی فون کو گرمائی دارالحکومت سری نگر کے بعض حصوں میں بحال کر دیا گیا ہے۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والے سیکڑوں سیاسی اور کمیونٹی لیڈروں کو گرفتار کر لیا ہے۔

ان میں سے بیشتر ابھی تک زیر حراست ہیں اور بعض کو ریاست سے باہر بھارت کے دوسرے شہروں میں جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے کیونکہ ریاست کی جیلیں گرفتار کیے گئے کشمیری مظاہرین سے بھر چکی ہیں۔ سری نگر میں حکام نے گذشتہ اتوار کو شہریوں کی نقل وحرکت پر دوبارہ پابندی عاید کر دی تھی۔ بھارتی سکیورٹی فورسز نے شہر میں جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑکیں بند کر رکھی ہیں جس سے شہریوں کی آزادانہ نقل وحرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ انھوں نے گذشتہ دو تین روز کے دوران میں کریک ڈاؤن میں کچھ کمی کی ہے اور تعلیمی ادارے بھی کھل گئے ہیں لیکن طلبہ اور طالبات اسکولوں میں نہیں آرہے ہیں۔