.

یونان کا ایرانی تیل بردار جہاز کو شام لے جانے کے لیے کوئی سہولت دینے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یونان نے ایران کے پرچم بردار آئیل ٹینکر ادریان داریا (سابق نام گریس اوّل) کو شام لے جانے کے لیے کسی قسم کی سہولت مہیا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

یہ ایرانی تیل بردار بحری جہاز برطانیہ کے زیرانتظام علاقے جبل الطارق ( جبرالٹر) کے ایک جج کے حکم پر اپنے نئے سفر پر رواں دواں ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ یہ سفر اب نئے نام کے ساتھ کر رہا ہے۔ پہلے اس کا نام گریس اوّل تھا۔

یونان کے نائب وزیر خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ایرانی ٹینکر کو شام لے جانے کے لیے کسی بھی سہولت کی پیش کش نہیں کی جائے گی۔

اس آئیل ٹینکر کو جبل الطارق میں برطانیہ کی شاہی بحریہ نے کوئی ڈیڑھ ماہ قبل یورپی یونین کی شام پر پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں تحویل میں لے لیا تھا۔ اس نے یہ کارروائی خلیج میں برطانیہ کے ایک پرچم بردار جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں کی تھی۔ اس پر ایرانی تیل لدا ہوا ہے اور اس کو شام بھیجا جارہا ہے۔

جہاز رانی کے ڈیٹا کے مطابق ایرانی جہاز یونان کی جانب جا رہا تھا۔ جبل الطارق کے حکام نے امریکا کی درخواست پر اس آئیل ٹینکر کو مزید تحویل میں رکھنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد اسی ہفتے امریکا کے محکمہ انصاف نے ایران کے اس تیل بردار سپر ٹینکر کی ضبطی کے لیے وارنٹ جاری کیے تھے۔

امریکی محکمہ انصاف کے جاری کردہ وارنٹ میں کہا گیا کہ ’’اس ایرانی جہاز ، اس پر لدے تیل اور995,000 ڈالر کی رقم کو بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات ایکٹ ( آئی ای ای پی اے) کی خلاف ورزی کی پاداش میں ضبط کر لیا جائے۔ اس نے بنک فراڈ، منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔‘‘

اس آئیل ٹینکر کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان اب ایک نئی محاذ آرائی شروع ہوچکی ہے اورایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں (کھلے سمندروں) میں اس کے تیل بردار بحری جہاز کو پکڑنے سے باز رہے۔