.

روس، ایران اور پاکستان جیسے ممالک کو داعش کے خلاف لڑنا ہو گا : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ روس، پاکستان اور ایران جیسے دیگر ممالک کو داعش تنظیم کے خلاف لڑائی کا بوجھ برداشت کرنا ہو گا۔

انہوں نے یہ بات بدھ کے روز صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ عراق میں داعش تنظیم کے دوبارہ نمودار ہونے کے حوالے سے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے زیر قیادت فورسز نے نام نہاد "خلافت" پر قابو پا لیا۔

امریکی صدر کے مطابق روس، افغانستان، ایران، عراق اور ترکی کو بھی اپنے معرکوں کا سامنا کرنا ہو گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ "ہم نے ریکارڈ مدت میں "خلافت" کا 100% خاتمہ کر ڈالا۔ تاہم ایک متعین عرصے میں یہ تمام دیگر ممالک جہاں کہیں داعش تنظیم پائی جاتی ہے ، اس سے لڑنے پر مجبور ہوں گے"۔

امریکی صدر کے مطابق بھارت اور پاکستان فرنٹ لائن ہونے کے باوجود شدت پسند جماعتوں کے خلاف جنگ میں بہت کچھ نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کے سامنے واضح کیا کہ "بھارت کو دیکھیے وہ ان کے خلاف برسر جنگ نہیں۔ پڑوس میں پاکستان ہے وہ ان کے خلاف نبرد آزما ہے مگر نہایت سادہ انداز میں.. یہ کوئی انصاف نہیں ہے۔ امریکا تو سات ہزار میل دور ہے"۔

ٹرمپ انتظامیہ نے شام اور عراق میں امریکی عسکری وجود کو کم کر دیا ہے۔ وہ افغانستان سے اںخلاء کے لیے طالبان جنگجوؤں سے مذاکرات کر رہا ہے۔ تاہم دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ امریکا کی جانب سے چھوڑا جانے والا خلاء شدت پسندی کو واپس لا سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو منگل کے روز اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ داعش تنظیم بعض علاقوں میں جان پکڑ رہی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تنظیم کی حملے کرنے کی قدرت بڑی حد تک ماند پڑ چکی ہے۔

افغان ذمے داران اور طالبان تحریک کے بعض ارکان کا کہنا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے طالبان تحریک اور امریکا کے درمیان معاہدہ ممکنہ طور پر بعض سخت گیر طالبان جنگجوؤں کو داعش میں شمولیت پر مجبور کر سکتا ہے۔

یاد رہے کہ داعش تنظیم کا ذیلی گروپ "خراسان" پہلی مرتبہ 2014 میں مشرقی افغانستان میں نمودار ہوا تھا۔ اس کے بعد سے گروپ نے دیگر علاقوں بالخصوص ملک کے شمال میں کارروائیاں کی ہیں۔

ٹرمپ نے فرانس اور جرمنی کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا ہے کیوں کہ وہ شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں شامل ہونے والے اپنے شہریوں کو واپس نہیں لائے۔ یہ لوگ اس وقت شام میں کیمپوں میں زیر حراست ہیں۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر یورپ ان افراد کو نہیں لے گا تو میرے پاس اس کے سوا کوئی آپشن نہیں ہو گا کہ انہیں آزاد کر کے اُن ممالک بھیج دیا جائے جہاں سے وہ آئے ہیں۔

ٹرمپ نے باور کرایا کہ "ہم نے ہزاروں کی تعداد میں ان کو قیدی بنایا اور اب حسب عادت ہمارے حلیف ممالک ان کو واپس نہیں لینا چاہتے۔ امریکا ان کو 50 برس تک گوانتانامو میں رکھ کر اس کے اخراجات برداشت نہیں کرے گا"۔

واضح رہے کہ شمال مشرقی شام میں امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں واقع حراستی مراکز کے اندر 50 سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد موجود ہیں۔ ان میں مرد، خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ان میں کم از کم 2000 ایسے افراد ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ غیر ملکی جنگجو ہیں۔ ان غیر ملکیوں میں بہت سے افراد کا تعلق مغربی ممالک سے ہے۔