.

سوڈان کے عبوری وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حلف برداری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی عبوری حکومت کے وزیراعظم عبداللہ حمدوک نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

انھوں نے حلف برداری کے بعد ملک میں مشمولہ جمہوریت کے قیام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔انھیں گذشتہ ہفتے انتالیس ماہ کے عبوری دور کے لیے وزیراعظم نامزد کیا گیا تھا۔

عبداللہ حمدوک ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں کئی سال تک اقوام متحدہ کے سینیر اکانومسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں اور وہ اپنی حلف برداری سے چند گھنٹے قبل ہی خرطوم پہنچے تھے۔

سوڈان کی سرکاری خبررساں ایجنسی سونا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’’عبوری مرحلے میں ملک کے عوام کو ایک مضبوط ریاست کی تشکیل کے لیے متحد ہونے اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔‘‘

سوڈان کی سبکدوش ہونے والی عبوری فوجی کونسل اور حزب اختلاف کے اتحاد برائے آزادی اور تبدیلی نے 17 اگست کو عبوری آئین کی منظوری دی تھی۔اس کے تحت ایک نگران خود مختار کونسل تشکیل پائی ہے جس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عبدالفتاح البرہان ہیں۔

اس کے تحت پہلے عبوری حکومت تشکیل دی جارہی ہے اور پھر بتدریج ملک میں نئے عام انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگی۔نو تشکیل شدہ خود مختار کونسل ملک کی اعلیٰ اختیاراتی اتھارٹی ہوگی۔ تاہم انتظامی اختیارات وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے زیر قیادت کابینہ کو حاصل ہوں گے۔شراکتِ اقتدار کے فارمولے کے تحت اس کے پانچ ارکان کا انتخاب عبوری فوجی کونسل نے کیا ہے جبکہ پانچ ارکان حزبِ اختلاف کے اتحاد کے نامزد کردہ ہیں۔ گیارھویں رکن کا دونوں فریقوں نے متفقہ طور پر انتخاب کیا ہے۔