.

یمن میں رواں سال ہیضے کے سبب اب تک 773 اموات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال 2019 کے آغاز کے بعد سے اب تک یمن میں ہیضہ کی وبا سے 773 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 5.36 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ متاثرین میں ایک چوتھائی تعداد بچوں کی ہے۔

اس سلسلے میں بدھ کے روز اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم "يونيسف" اور عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں ہیضہ کے خلاف ویکسی نیشن پلانے کی مہم شروع کی گئی ، یہ مہم 6 روز تک جاری رہی۔ اس دوران عدن، الضالع اور تعز کے صوبوں میں 4 لاکھ افراد کو ویکسی نیشن دی گئی جن میں پانچ برس سے کم عمر تقریبا 65 ہزار بچے شامل ہیں۔

بیان کے مطابق اپریل 2017 کے بعد سے ہیضہ اور اسہال کی وبا نے یمن میں 20 لاکھ کے قریب افراد کو متاثر کیا۔ اس دوران 3500 افراد موت کا شکار ہوئے۔ متاثرین میں ایک تہائی تعداد پانچ برس سے کم عمر بچوں کی ہے جن میں 711 اموات واقع ہوئیں۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ یمن میں ہیضے کا پھیلاؤ ابھی تک دنیا بھر میں کسی بھی وبا کا سب سے برا پھیلاؤ ہے۔

صنعاء میں صحت سے متعلق حکام نے باغی حوثی ملیشیا کو شہر میں اور حوثیوں کے زیر کنٹرول دیگر علاقوں میں ہیضہ کی وبا دوبارہ پھیلنے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔ اس کا سبب حوثی جماعت کے حکام کی جانب سے دانستہ غفلت ، نکاسیِ آب کے نظام کی تباہی اور بین الاقوامی طبی امدادات کا سرقہ ہے۔

حوثیوں کی کارستانیوں کے سبب صنعاء کی مرکزی سڑکوں پر نالوں کا گندا پانی کھڑا ہے جس نے ہیضے کی وبا کے پھیلاؤ کے لیے مناسب ماحول پیدا کر دیا ہے۔