.

جھڑپوں کے بعد یمنی فوج کا شبوہ صوبے کے شہر عتق پر کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں جنوبی عبوری کونسل کے نائب سربراہ ہانی بن بریک نے یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شبوہ صوبے کے شہر عتق میں جنم لینے والی صورت حال کے ذمے دار فریق کا پتہ چلانے کے واسطے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھیجے۔ جمعرات کی شام عتق میں یمنی حکومتی فوج اور عبوری کونسل کی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔

بن بریک کا یہ مطالبہ جمعے کو علی الصبح کی جانے والی ایک ٹویٹ میں سمنے آیا۔

ادھر شبوہ صوبے کے سیکورٹی ڈائریکٹر بریگیڈیر جنرل عوض الدحبول کا کہنا ہے کہ یمنی فوج اور سیکورٹی فورسز نے عتق شہر کی صورت حال پر قابو پا لیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق جھڑپوں میں فریقین کے ارکان ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ متعدد عسکری گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ اس دوران جنوبی عبوری کونسل کے زیر انتظام "الشبوانیہ ایلیٹ فورس" شہر میں اپنے متعدد ٹھکانوں کو چھوڑ کر نکل گئی۔

عتق شہر میں محکمہ صحت کے ذمے داران نے جمعے کو علی الصبح زخمیوں کے انخلاء کے واسطے ہنگامی اپیل کی۔ حکام کے مطابق النصب کے علاقے اور "سبأ فون" ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کے اطراف میں زخمیوں کی ایک بڑی تعداد ہے جن کے پاس ایمبولینس کی ٹیمیں نہیں پہنچ سکیں۔

یمن کی حکومت نے جمعرات کی شب جاری ایک بیان میں جنوبی عبوری کونسل پر عتق شہر پر دھاوا بولنے کا الزام عائد کیا۔ حکومت نے باور کرایا کہ شبوہ میں عبوری کونسل کے حملے کو پسپا کرنے کے لیے عسکری یونٹ ثبات قدم ہیں۔

دوسری جانب شبوہ صوبے کے شیوخ اور اہم شخصیات نے جمعرات کی شام جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ عبوری کونسل صوبے کو تشدد اور انارکی میں دھکیلنا چاہتی ہے۔

شیوخ نے بیان میں واضح کیا کہ وہ صدر عبدربہ منصور ہادی کی سیاسی قیادت اور یمنی قومی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ بیان میں زور دے کر کہا گیا ہےکہ حوثیوں کی بغاوت کو کچلنے کے لیے مرکزی معرکہ آرائی کو پٹری سے اترنے نہ دیا جائے کیوں کہ یہ سازش دشمن کے کام آئے گی۔ اس کا مقصد حکومت کی آئینی حیثیت کو سبوتاژ کرنا اور اتحادی ممالک کی کوششوں کو برباد کرنا ہے۔