.

حوثی باغیوں نے بنیادی حقوق کی پامالیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے

حوثی ملیشیا کی چھ ماہ میں شہری حقوق کی 2726 پامالیوں کا ارتکاب کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے بنیادی شہری حقوق کی پامالیوں کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے چھ ماہ کے دوران حوثی ملیشیا نے بنیادی شہری حقوق کی 2726 پامالیاں کیں۔

یمن میں ایک غیر سرکاری انسانی حقوق گروپ 'عینی شاہدین برائے انسانی حقوق' کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2019ء کی پہلی ششماہی کے دوران حوثی باغیوں نے تمام شہروں میں بنیادی شہری اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا ارتکاب کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں قتل عمد کے 19، فائرنگ سے زخمی کرنے کے 29، اغواء کے 266 اور جبری قید اور تشدد کے 110 واقعات بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے چھ ماہ میں 162 کم عمر بچوں کو جنگ کے لیے بھرتی کیا۔ 238 شہریوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر بلیک میل کیا گیا۔ 401 خاندانوں کو بے گھر کیا گیا جبکہ 338 افراد کو ان کے گھروں سے نکال کران کے گھروں پر قبضہ کیا گیا۔

حوثی ملیشیا کے ہاتھوں شہریوں کی املاک لوٹنے کے 1113 واقعات کا اندراج کیا گیا۔

حوثی ملیشیا کی طرف سے 724 شہریوں کو اجتماعی سزائوں کا سامنا کرنا پڑا۔ حوثیوں کی قائم کردہ چوکیوں پر مرد وخواتین کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا اور نوجوانوں کو ملیشیا میں بھرتی ہونے پر مجبور کیا جاتا۔

انسانی حقوق گروپ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں اعداد وشمار کے ساتھ عالمی برادری سے یمن میں حوثیوں کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں بند کرانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔