.

سوڈان کے معزول صدر کے خلاف عدالتی کارروائی ایک غلطی ہے : الصادق المہدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں نئی عبوری حکومت کے وزیراعظم کا حلف اٹھانے والے عبداللہ حمدوک نے "ابتدائی مشاورت" کے سلسلے میں الامہ پارٹی کے سربراہ اور فریڈم اینڈ چینج فورسز کے رہ نما الصادق المہدی سے جمعرات کے روز ان کے گھر پر ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد المہدی نے کہا کہ نئی حکومت کے سامنے بہت سے چیلنج ہیں۔ ان میں امن کو یقینی بنانا، جنگ کو روکنا اور اقتصادی مسائل کو درست کرنا شامل ہے۔

ایک سوڈانی آن لائن اخبار "Taseti News" کو دیے گئے انٹرویو میں المہدی نے اس امید کا اظہار کیا کہ "میرے خیال میں ہم ان تمام مسائل کی درستی میں کامیاب ہو جائیں گے"۔

المہدی نے مزید بتایا کہ "ہم میں سے بعض نے کوٹے کے وجود پر اصرار کیا جس کے نتیجے میں فریڈم اینڈ چینج فورسز کے اندر مخالفت سامنے آئی"۔

غیر ملکی کرنسی کو قبضے میں رکھنے کے الزام میں معزول صدر عمر البشیر کے خلاف مقدمے کی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے المہدی نے کہا کہ "یہ ابتدا غلط ہے کیوں کہ یہ الزام عمر البشیر کی جانب سے مرتکب امور کے حوالے سے ادنی ترین الزام ہے۔ البتہ بعد ازاں بقیہ امور کے حوالے سے بھی پوچھ گچھ عمل میں آئے گی"۔

الامہ پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ "عمر البشیر اجتماعی نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم کے الزام میں بین الاقوامی فوج داری عدالت کو مطلوب ہیں۔ البشیر کا تعاقب سلامتی کونسل کی قرار داد 1593 کی رُو سے عمل میں آیا لہذا یہ الزامات اور تعاقب ابھی تک قائم اور جاری ہے"۔