.

ادلب کی صورت حال پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کروں گا: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ شام کے شمال مغربی علاقے میں اسد رجیم کی فوجی کارروائی کی صورت میں آئندہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کروں گا۔

کل جمعہ کو ترک صدر طیب ایردوآن نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ شام میں ترکی کی سرحد پر اسدی فوج کی کارروائی ترکی کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

ترکی کی حکمران جماعت'انصاف ترقی'(آق) کے 18 ویں یوم تاسیس کی مناسبت سے اجلاس سےخطاب میں ترک صدر نے کہا کہ ترکی اپنی جنوبی سرحد پر سیف زون قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

خیال رہے کہ جمعہ کو شام میں بشارالاسد کی وفادار فوج نے ترکی کی سرحد کےقریب کفر زیتا اور مشرقی ٹیلوں پرقبضہ کرلیا تھا۔ اس کے علاوہ شامی فوج نے حماۃ میں مورک کے مقام پر ترک فوج چوکی کے قریبی علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے کر ترک چیک پوسٹ کی طرف پیش قدمی شروع کردی شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والےا دارے 'سیرین آبزر ویٹری' کے مطابق اسدی فوج نے محاذ جنگ پر پیش قدمی کرتے ہوئے ترک فوج کی ایک چیک پوسٹ پرقبضہ کرلیا ہے۔

آبزر ویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ بشار کی فوج نے اس وقت مورک میں ترکی کی عسکری چیک پوائنٹ کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ اس سے قبل شامی فوج نے ادلب کے جنوب میں حماہ کے شمالی دیہی علاقے کے اندر محصور پٹی میں واقع تمام دیہات اور قصبوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

اسی طرح المرصد نے مزید بتایا کہ کفرزیتا اور اللطامنہ کے قصبوں کو کنٹرول میں لینے کے بعد 5 اگست کو فائر بندی ختم ہونے کے وقت سے روسی فوج کی معاونت کے ذریعے بشار کی فوج کے پاس واپس آنے والے علاقوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اب تک شامی فوج کے کنٹرول میں آنے والے علاقوں میں الاربعین، الزکات، الصخر، الجیسات، الصیاد، تل الصیاد، خان شیخون، السکیک، ترعی، الہیبط، عابدین، مغر الحمام، مغر الحنطہ، کفرعین، عاس، مدایا، المردم اور المنطار ، کفریدون اور الصباغیہ کے کھیت شامل ہیں.