امریکی پابندی سے ہواوے کمپنی کی آمدنی 10 ارب ڈالر کم ہو جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ٹکنالوجی کی دنیا کی مشہور چینی کمپنی ہواوے کا کہنا ہے کہ امریکی پابندی کے سبب رواں سال کمپنی کی کاروباری آمدنی میں کم از کم 10 ارب ڈالر کی کمی متوقع ہے۔ اس پابندی کے سبب ہواوے کمپنی امریکی کمپنیوں سے اہم اجزاء نہیں خرید سکے گی۔ یہ بات برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے بتائی۔

امریکا نے پیر کے روز مزید 90 دن کی مہلت کا اعلان کیا تھا۔ اس مہلت کے وران امریکی ٹکنالوجی کمپنیاں چینی کمپنی ہواوے کو ایسی مصنوعات کی فروخت جاری رکھ سکتی ہیں جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں۔

ہواوے کمپنی نے جمعے کے روز کہا کہ اس کے لیے مذکورہ مہلت کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور کمپنی اور اس کے ملازمین امریکی پابندی کے تحت مستقبل میں کام کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

ہواوے کمپنی کے نائب چیئرمین ایرک ژو نے کمپنی کی نئی چپ سیٹAscend 910 کو متعارف کرانے کے ایونٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نہیں سمجھتے کہ ہواوے کمپنی کو درپیش اس صورت حال کی شدت میں جلد کوئی کمی واقع ہو گی"۔

اس سے پہلے کمپنی نے رواں ماہ اپنے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ ڈیوائس کے لیے اپنے خصوصی آپریٹنگ سسٹم کا انکشاف کیا تھا۔ اس بارے میں کمپنی کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت ہواوے کو گوگل کے اینڈروئڈ سسٹم کا متبادل فراہم کر سکتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ وہAscend 910 کو براہ راست مارکیٹ میں پیش نہیں کرے گی۔ کمپنی کے نائب چیئرمین ایرک ژو کے مطابق یہ چپ سیٹ دنیا میں کسی بھی دوسرے پروسیسنگ یونٹ سے زیادہ بڑے ڈیٹا کے حساب کتاب کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایرک ژو کے مطابق دس برس سے چپ ڈیزائننگ کا کوئی Tool دستیاب نہیں ہے مگر اس کے باوجود یہ صنعت چپ سیٹ ڈیزائن کر رہی ہے۔ انٹیل کمپنی نے انیس سو ستر کی دہائی میں اُس وقت CPU تیار کیا جب یہ (ڈئزائننگ) کمپنیوں کا کوئی وجود نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں