.

ایردوآن نے برطرف میئروں کو دہشت گردوں کا خدمت گار ٹھہرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کردوں کے ہمنوا تین شہروں کے میئروں کی برطرفی سے متعلق اپنی حکومت کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ یہ افراد "دہشت گردوں" کے کام آ رہے تھے۔ یہ بات سرکاری خبر رساں ایجنسی اناضول کی جانب سے جمعے کے روز جاری ترک صدر کے بیان میں سامنے آئی۔

دیار بکر کے میئر عدنان سلجوق ، ماردین کے میئر احمد ترک اور فان کے میئر بدیعہ اوزوکچی ارتان کو گذشتہ اتوار کی شب ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ رواں سال 31 مارچ کو منتخب ہونے والے تینوں افراد پر شبہ ہے کہ ان کے کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ترکی اس پارٹی کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے۔

تینوں شخصیات کا تعلق کردوں کی ہمنوا جماعت ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی سے ہے۔

ادھر مذکورہ تین میئروں کی برطرفی کے نتیجے میں کرد اکثریتی رکھنے والے شہر دیار بکر میں رواں ہفتے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے تیز دھار پانی کا استعمال کیا۔

اناضول ایجنسی کے مطابق ایردوآن نے انقرہ میں اپنے بیان میں کہا کہ "خبردار ! کوئی بھی اپنا ہاتھ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں نہ دے ... اگر میئر حضرات عوام کے بجائے دہشت گردوں کی خدمت میں لگ جائیں گے تو ہم ان کو برطرف کریں گے"۔

حکومت نے برطرف میئروں کی جگہ نئے بلدیاتی سربراہان مقرر کر دیے تھے۔

یاد رہے کہ ایردوآن کی حکومت ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی پر الزام عائد کرتی ہے کہ اس کے کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ تعلقات ہیں .. جس نے 1984 سے ترکی میں علمِ بغاوت بلند کر رکھا ہے۔

تاہم ڈیموکریٹک پیپلز پارٹی اس الزام کو مسترد کرتی رہی ہے۔