گروپ سیون نے فرانس کو ایران سے مذاکرات کی ذمہ داری نہیں سونپی: ماکروں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں نے کہا ہے کہ انہیں سات رکنی عالمی صنعتی ممالک کے گروپ کی طرف سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری نہیں سونپی گئی۔

فرانسیسی صدر کی طرف سے جاری کردہ بیان سے قبل اتوار کو سفارتی ذرائع نے خبر دی تھی کہ گروپ سیون کی طرف سے فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گروپ 7 کی قیادت نے ہفتے کی شام پیرس میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں زور دیا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے ہر صورت میں روکا جانا چاہیے۔

فرانسیسی ایوان صدر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کی پہلی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنا اور خلیجی خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ کسی ملک کو ایران کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری سونپے جانے پر غور نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گروپ سیون کے اس مشترکہ بیان کے حامی ہیں جس میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ٹھوس موقف اختیار کیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ فی الحال ایران کے حوالے سے کوئی ٹھوس حکمت عملی وضع نہیں کی گئی۔ لوگ اس موضوع پر باتیں کرتے ہیں بے شک کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں