.

انقرہ چین اور تاجکستان کو مطلوب مسلمان باشندے حوالے کر رہا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق ترکی کے ایک حراستی مرکز میں موجود اویغور نسل کی خاتون جنت گل تورسن اور اس کی بہن زینت سے آخری بار گفتگو کے دوران زینت گل نے اس اندیشے کا اظہار کیا تھا کہ اسے اُس کی دو بچیوں سمیت بے دخل کر کے چین بھیج دیا جائے گا۔

اس کے بعد دو ہفتوں کے اندر مذکورہ گھرانے کو چینی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ اس پیش رفت نے ترکی میں بڑی تعداد میں موجود ایغور نسل کے افراد میں تشویش پیدا کر دی کہ کئی دہائیوں سے ان کے لیے محفوظ ملک اب پہلے جیسا نہیں رہا۔

سعودی عرب میں اپنے گھر میں فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں جنت گل نے کہا کہ "ترکی نے تو بہت سے لوگوں کا دفاع کیا.. مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے میری بہن کو حوالے کیوں کیا.. انہوں نے ہمیں تحفظ فراہم کیوں نہیں کیا ؟".

ترکی چین سے باہر ایغور نسل کے افراد کی میزبانی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ ایک مسلم نسل کی قوم ہے جس کو چین کے خود مختار علاقے سنکیانگ میں شدید سیکورٹی مہم کا سامنا کرنا پڑا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین نے ایغور اور دیگر اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے تقریبا 15 لاکھ افراد کو اپنے حراستی کیمپوں میں ڈال دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان افراد کو اپنا عقیدہ ختم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ چین انسداد دہشت گردی کے نام پر اپنے ان سخت ترین اقدامات کا دفاع کرتا ہے۔

ترکوں نے ایغور قوم کے مسئلے کو سپورٹ کیا جن کی زبان ترک زبان سے مماثلت رکھتی ہے۔ ترکی کی حکومت نے رواں سال فروری میں چین سے ان کیمپوں کو بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں انسانیت کے لیے "ننگ و عار" قرار دیا تھا۔

تاہم اب ترکی میں موجود 30 ہزار کے قریب ایغور مسلمانوں میں یہ اندیشے بڑھ رہے ہیں کہ انقرہ اقتصادی تعلقات کو توسیع دینے کی خاطر چین کے ساتھ اپنے اختلافات ترک کرنے پر تیار ہے۔

ترکی میں East Turkestan National Assembly نامی تنظیم کے سربراہ سید توترک کا کہنا ہے کہ "ہم جانتے ہیں کہ چین اس وقت ترکی پر دباؤ ڈال رہا ہے .. یقینا ترکی میں ایغور آبادی کی صورت حال سنگین ہے"

ترکی نے گذشتہ سال کے دوران اپنی معیشت کے سست پڑ جانے پر چین کے مرکزی بینک سے 3.6 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔

گذشتہ ماہ بیجنگ کے دورے کے دوران چینی سرکاری میڈیا نے ایردوآن کے حوالے سے کہا تھا کہ ترک صدر چین کے علاقے سنکیانگ میں بیجنگ کی پالیسی کو سپورٹ کرتے ہیں ، اگرچہ ایردوآن کے دفتر نے خبر کے اس ترجمے کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔

جارج واشنگٹن یونی ورسٹی میں بین الاقوامی امور کے کالج کے ڈائریکٹر شین رابرٹس کے مطابق کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ترکی کا اعتماد پہلے سے کم ہو چکا ہے اور اب چینی اس کا متبادل پیش کر رہے ہیں۔

حالیہ چند ماہ کے دوران ترکی کے جبری حراستی مراکز میں سیکڑوں ایغور مسلمانوں کو داخل کیا گیا۔ ترکی کے حکام نے اس حوالے سے اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔

ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان صویلو نے بدھ کے روز صحافیوں سے کہا تھا کہ "ہم کسی کو بھی چین واپس نہیں بھیج رہے ہیں۔ ترکی نے 2018 سے اب تک تقریبا 11 ہزار ایغور باشندوں کو طویل المدت قیام کی پیش کش کی"۔

جہاں تک زینت گل تورسن کا تعلق ہے تو اس پر دہشت گردی کا الزام عائد کر کے اسے تاجکستان بے دخل کیا گیا۔ اس سے قبل تاجکستان کے حکام نے دعوی کیا تھا کہ وہ ان کی شہری ہے۔ ترک وزیر داخلہ نے وعدہ کیا کہ زینت گل کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک واقعہ ترکی کی پالیسی میں تبدیلی کی عکاسی نہیں کرتا۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون لوگوں کو ایسے ممالک بھیجنے سے روکتا ہے جہاں انہیں ایذا رسانی کے خطرے کا سامنا ہو۔

ایغور آبادی سے تعلق رکھنے والا 42 سالہ (Abuduani Abulaiti) 2013 میں ترکی پہنچا تھا۔ ابودینی کی ترکی میں قیام کی درخواست مسترد ہونے کے بعد گذشتہ ماہ اس سے کوچ کر جانے کا مطالبہ کیا گیا۔ امیگریشن کے ذمے داروں نے ابودینی کو یقین دلایا کہ اسے بے دخل کر کے چین نہیں بھیجا جائے گا۔ تاہم ابودینی کو اندیشہ ہے کہ چین کی طاقت اور مال ترکی پر اثر انداز ہو گی۔ ابودینی کے دو بھائی چینی کیمپوں میں زیر حراست ہیں۔

ابودینی کا کہنا ہے کہ "میری پوری زندگی ترکی میں رہنے کے گرد گھوم رہی ہے مگر اب یہاں صورت حال پیچیدہ ہو چکی ہے۔ مجھے تشویش ہے کیوں کہ غیر ملکیوں کے لیے معاندانہ جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے"۔

زیادہ تر یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ وہ ایغور آبادی کو بے دخل نہیں کریں گے۔ تاہم ان میں سے بعض کو آخرکار چین پہنچنا پڑا۔

گذشتہ ماہ اقوام متحدہ میں 22 مغربی ممالک نے ایک خط پر دستخط کیے جس میں بیجنگ کی مہم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں پیش کی گئی یادداشت میں 50 ممالک نے چین کی حمایت کی۔ ترکی نے ان میں سے کسی دستاویز پر دستخط نہیں کیے۔

جارج واشنگٹن یونی ورسٹی میں بین الاقوامی امور کے کالج کے ڈائریکٹر شین رابرٹس کے مطابق اگر ترکی نے یہ تسلیم کر لیا کہ چین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانی حقوق کی کوئی بڑی خلاف ورزی نہیں .. تو یہ چین کے لیے ایک بڑی کامیابی ہو گی۔