.

ایران میں نظام تبدیل کرنے کے خواہاں نہیں ، تہران کو دہشت گردی روکنا ہو گی : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ فلسطینی ایک امن معاہدہ طے پانے کی خواہش رکھتے ہیں بالخصوص جب کہ انہیں فنڈنگ کے بحران کا سامنا ہے۔

ٹرمپ نے یہ بات فرانس میں جی - سیون ممالک کے سربراہ اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران کہی۔ امریکی صدر نے کہا کہ ان کے نزدیک فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے بیچ سمجھوتا ممکن ہے۔ ٹرمپ کے مطابق فلسطینی امن معاہدہ طے کرنے اور سپورٹ کی واپسی کے خواہاں ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق مشرق وسطی کے لیے امن منصوبے کا اعلان ممکنہ طور پر اسرائیلی انتخابات سے قبل ہو سکتا ہے۔

ایران کے حوالے سے ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کا ملک ایران میں نظام تبدیل کرنے کے لیے کوشاں نہیں تاہم اگر ایران خواہاں ہو تو امریکا اسے ایک دولت مند ریاست کی صورت میں دیکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اوباما اور ایران کے درمیان طے پانے والا جوہری معاہدہ ختم ہو جائے گا ، یہ ایک مناسب اور اچھا سمجھوتا نہیں ہے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران کو امریکی پابندیوں کے سبب دشوار اقتصادی حالات اور بھاری مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جی - سیون سربراہ اجلاس میں ایران کے بیلسٹک میزائل کے معاملے پر بات کریں گے۔

امریکی صدر نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کی سپورٹ اور سرپرستی روک دے۔

اس سوال پر کہ آیا امریکی ذمے داران نے جی - سیون سربراہ اجلاس کے ضمن میں ایرانی زیر خارجہ سے ملاقات کی ... ٹرمپ نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ ظریف کے ساتھ کسی بھی ملاقات کے حوالے سے بات کرنا نہایت قبل از وقت ہے۔