.

مستقل امن کے لیے سعودی عرب، پاکستان اور یورپ کے ساتھ کام کر رہے ہیں : افغان صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے صدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک اور سعودی عرب باہمی تعلقات کو ترقی دینے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ افغانستان میں مستقل امن کے قیام کے سلسلے میں سعودی عرب، پاکستان اور اسی طرح یورپی ممالک کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔

العربیہ نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں اشرف غنی کا کہنا تھا کہ "عادل الجبیر (سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور) اور دیگر لوگ ہمارے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو آگے بڑھایا جائے اور دائمی امن کی خاطر نقطہ ہائے نظر میں رابطہ کاری کو یقینی بنایا جائے۔ یہ افغانستان اور خطے کا بھی مقصد ہے"۔

افغان صدر نے مزید کہا کہ اس دو طرفہ رابطہ کاری کی بنیاد پر اور اسی طرح یورپی ممالک اور پاکستان کے ساتھ رابطہ کاری سے حالات بہتر ہو جائیں گے۔

رواں ماہ کے آغاز میں سعودی عرب نے اپنی وزارت خارجہ کے ذریعے تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف افغانستان کے ساتھ یک جہتی کی تجدید کی تھی۔ سعودی عرب نے افغان دارالحکومت کابل میں پولیس مرکز کے نزدیک ہونے والے دہشت گرد ھماکے کی مذمت بھی کی۔ واقعے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

یہ تباہ کن دھماکا اقوام متحدہ کے ایلچی اور طالبان کی جانب سے اس اعلان کے ایک روز بعد ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں 18 برس سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے فریقین کے بیچ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔