.

امریکا مذاکرات چاہتا ہے تو پہلے ایران پر عاید تمام پابندیاں ختم کرے : حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی صدر حسن روحانی نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکا تہران پر عاید کردہ تمام پابندیاں ختم نہیں کر دیتا ،اس وقت تک اس کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات پر آمادگی کی پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز ایک نشری تقریر میں کہا کہ ’’ ایران ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہا ہے لیکن امریکا کو پہلے ایران پر عاید کردہ غیر قانونی، غیر منصفانہ اور بلاجواز پابندیاں ختم کرنی چاہییں ۔‘‘

انھوں نے کہاکہ ’’ اگر ہمارے مفادات کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاتی ہے تو ہم 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے تقاضوں سے انحراف کا سلسلہ جاری رکھیں گے ۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنا چاہتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کو ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے پر تنازع کے خاتمے کے لیے صدر حسن روحانی سے ملاقات پر آمادگی ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے رقوم کی ترسیل کی غرض سے بھی ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

لیکن انھوں نے فرانس کے ساحلی سیاحتی مقام بیارتز میں منعقدہ گروپ 7 کے سربراہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے ایران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیاں ہٹانے کے امکان کو مسترد کردیا تھا۔ البتہ انھوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ آیندہ ہفتوں کے دوران میں ان کی صدر حسن روحانی سے ملاقات ہونی چاہیے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا’’میں اچھے احساسات رکھتا ہوں ۔میرے خیال میں وہ ( حسن روحانی) ملاقات کرنا چاہیں گے اور وہ اپنی صورت حال کوسیدھا کرنا چاہتے ہیں۔وہ بری طرح متاثر ہوئے ہیں‘‘۔صدر ٹرمپ اور حسن روحانی ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اکٹھے ہوں گے اور وہیں دونوں میں ملاقات ہوسکتی ہے۔

جوہری سمجھوتے کے فریق یورپی ممالک کے لیڈر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مئی 2018ء میں جوہری سمجھوتے سے انخلا کے بعد سے ایران اور امریکا کے درمیان گہری ہوتی اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کررہے ہیں۔امریکا نے نومبر 2018ء میں ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس سے اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔

فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں دونوں ملکوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور بحران کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔انھوں نے گذشتہ روز حالیہ بات چیت کی بنیاد پر اس امید کا اظہار کیا تھا کہ ’’آیندہ ہفتوں میں ہم صدر روحانی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کامیاب ہوجائیں گے اور اگر ان میں یہ ملاقات ہوجاتی ہے تو پھر ایک سمجھوتا بھی طے پاجائے گا۔‘‘