.

دارالعوام کی کارروائی معطل کرنا "شرم ناک" ہے : اسپیکر برطانوی پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی دارالعوام کے اسپیکر جان برکاؤ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے پارلیمنٹ کی کارروائی کو ستمبر کے وسط سے 14 اکتوبر تک معطل رکھنے کا فیصلہ ایک "آئینی اسکینڈل" ہے۔

بدھ کے روز کاؤ کا کہنا تھا کہ یہ بالکل واضح ہے کہ اس اقدام کا مقصد پارلیمنٹ کو بریگزٹ منصوبے اور اس کی روشنی میں ملک کے راستے کی ذمے داریوں کو زیر بحث لانے سے روکنا ہے ... جب کہ 31 اکتوبر برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کی مقررہ تاریخ ہے۔

برطانوی حکومت پارلیمنٹ کے تعطل کو توسیع دے کر 14 اکتوبر تک یعنی برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کی تاریخ سے دو ہفتے پہلے تک لے جانا چاہتی ہے۔ یہ بات میڈیا نے بدھ کے روز بتائی۔

برطانیہ کے دو نیوز چینلوں "بی بی سی " اور "اسکائی نیوز" کا کہنا ہے کہ جانسن یہ چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کا کارروائی کا دوبارہ آغاز 14 اکتوبر کو ہو۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے ایک سینئر جرنلسٹ نِک رابنسن نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی کے تعطل کی منظوری حاصل کرنے کے لیے برطانوی ملکہ الزبتھ کو درخواست بدھ کے روز موصول ہو گی۔

دوسری جانب برطانوی اخبار گارڈین کا کہنا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ کی تعطیلات میں (جو ستمبر کے اواخر سے اکتوبر کے اوائل تک ہوتی ہیں) 14 اکتوبر تک کی توسیع کرنے پر غور کر رہی ہے تا کہ اسی ماہ 31 اکتوبر کو مقررہ بریگزٹ کا عمل پایہ تکمیل تک پہنچ جائے۔

اخبار کی پولیٹیکل ایڈیٹر ہیدر اسٹیورٹ نے ٹویٹر پر بتایا کہ اس منصوبے کے حوالے سے ایک اجلاس آج بدھ کے روز اسکاٹ لینڈ میں ملکہ الزبتھ کی موسم گرما کی قیام گاہ میں منعقد ہو رہا ہے۔ ہیدر نے مزید بتایا کہ یہ اجلاس ملکہ کی خصوصی مشاورتی کونسل کا ہے۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کی تعطیلات میں 14 اکتوبر تک کی توسیع کا معاملہ زیر غور آئے گا۔