.

یمنی حکومت کی فورسز ایس ٹی سی کے کنٹرول کے بعد پہلی مرتبہ عدن میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار فورسز بدھ کے روز عبوری دارالحکومت عدن میں داخل ہوگئی ہیں اور انھوں نے جنوبی عبوری کونسل ( ایس ٹی سی) کی فورسز سے شہر کو واگذار کرا لیا ہے۔ ایس ٹی سی کی فورسز نے اس ماہ کے اوائل میں عدن میں اہم سرکاری عمارتوں اور مراکز پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ٹویٹر پر اطلاع دی ہے کہ ’’قومی فوج اور سکیورٹی سروسز عبوری دارالحکومت میں پہنچ چکی ہیں اور انھوں نے اس کے علاقو ں کو محفوظ بنانا شروع کردیا ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا ہے کہ سرکاری فورسز نے عدن کے ہوائی اڈے کے مرکزی دروازے کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل کے درمیان جنگ بندی کرانے میں سعودی عرب نے اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کی ثالثی کے نتیجے ہی میں ایس ٹی سی کی فورسز نے عدن کی اہم عمارتوں اور ہوائی اڈے کو خالی کرنے سے اتفاق کیا تھا۔سعودی عرب کی دعوت پر ایس ٹی سی کے سربراہ منگل کو ساحلی شہر جدہ پہنچے تھے ۔وہ یمنی حکومت کے نمایندوں سے عدن کے بارے میں بات چیت کریں گے۔

ایس ٹی سی یمن کی قانونی حکومت کی حمایت میں ایران کے آلہ کار حوثی باغیوں سے لڑنے والے عرب اتحاد کا حصہ ہے ۔تاہم کونسل نے حال ہی میں عدن پر کنٹرول کی کوشش کی تھی اور صورت حال بگڑنے کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے مصالحتی کوششیں تیز کردی تھیں۔

دریں اثناء یمن کے وزیر داخلہ احمد المیسری نے ایک بیان میں سرکاری فورسز کو خبردار کیا ہے کہ وہ جنوبی فورسز کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کریں۔