.

اسکول میں روتے بچے کا ہاتھ تھام لینے والے ساتھی کی متاثر کن تصویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر ایک بچے کی "متاثر کن" تصویر وائرل ہوئی ہے جو اپنے اسکول کے پہلے روز روتا ہوا نظر آیا۔ شاید یہ معمول کی بات ہے کہ بہت سے بچے خوف اور تشویش کے سبب رونا شروع کر دیتے ہیں جب کہ بعض بچے بہت خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

تاہم تصویر میں نظر آنے والے 8 سالہ امریکی بچے کونر کی کہانی ذرا مختلف ہے۔ حال ہی میں دوسری جماعت کی تعلیم کا آغاز کرنے والا کونر " آٹزم " (خود تسکینی کی کیفیت) جیسے نفسیاتی مسئلے سے دوچار ہے۔

کونر کی والدہ اپرل کرائٹس کو اس بات کی انتہائی تشویش تھی کہ ان کے بیٹے کو اسکول میں پہلے روز بڑی مشکل کا سامنا ہو گا۔ آخرکار 14 اگست کو جب کونر ویچیٹا میں اپنے اسکول کے دروازے کھلنے کا منتظر تھا تو اس موقع پر وہ اپنے آنسوؤں کو بہنے سے نہ روک سکا۔

کونر کی والدہ کہتی ہیں کہ آٹزم کبھی کبھی ان کے بیٹے کو متاثر کرتا ہے اور وہ اس طرح سے رونے لگ جاتا ہے جب کہ اس کا ذاتی معاون بھی اس کے ہمراہ نہ ہو۔

اسکول کے پہلے روز جب کونر تنہا کھڑا رو رہا تھا تو ایسے میں اس کی کلاس کے ایک ساتھی بچے کریشٹن مور نے کونر کو سپورٹ کیا اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس "متاثر کن" منظر کو مور کی والدہ کورٹنی نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔

کورٹنی نے یہ تصویر فیس بک پر پوسٹ کی جس کے بعد وہ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو گئی۔ کورٹنی نے تصویر کے حوالے سے لکھا کہ "میں اپنے بچے پر بہت فخر محسوس کر رہی ہوں جس نے ایک بچے کو روتے ہوئے دیکھا تو اس کے ساتھ کھڑے ہو کر بچے کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے ساتھ لے کر اسکول کے اندر چلنے لگا۔ میرے لیے یہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ میں محبت اور شفقت کے حامل ایک ایسے بچے کی پرورش کر رہی ہوں ... میرا بیٹا بہت بڑے دل کا مالک ہے ، نئے تعلیمی سال کے پہلے روز ہی اس نے بہت اچھا آغاز کیا ہے"۔

دوسری جانب کونر نے گھر آ کر اپنی والدہ کو بتایا کہ اس نے اسکول میں ایک شان دار دن گزارا اور تمام دوست اور نئے اساتذہ اس کو پسند آئے۔

کونر کی والدہ کے مطابق انہیں کئی روز بعد کونر کے ساتھ کریشٹن مور کی تصویر دیکھ کر اس بچے کی طرف سے شفقت آمیز رویے کا معلوم ہوا۔

کونر کی والدہ کرائٹس نے تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ "اپنے بچے کو میری طرف سے انتہائی تشکر پیش کرو ! اس نے جس ننھے بچے کی مدد کی وہ میرا بیٹا ہے اور وہ آٹزم کا شکار ہے"۔