.

ایرانی تیل بردار جہاز "ایڈریان ڈاریا 1" ترکی کے پانی میں داخل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز ایڈریان ڈاریا 1 ترکی کے علاقائی پانی میں داخل ہو گیا ہے۔

روس کی اسپٹنک نیوز ایجنسی کے مطابق یہ جہاز اپنی کھیپ کو ترکی کی مرسین بندرگاہ پر اتارے گا۔

ایرانی تیل بردار جہاز ایڈریان ڈاریا 1 (جو اس سے پہلے گریس 1 کے نام سے معروف تھا) کو جبل طارق کے حکام نے ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک تحویل میں رکھنے کے بعد چھوڑ دیا تھا۔ جہاز نے 24 اگست کو ایک اعلان میں بتایا کہ اس نے اپنا رخ ترکی کی جانب کر لیا ہے۔

جبل طارق کے حکام نے مذکورہ تیل بردار جہاز کو اس شبہے میں تحویل میں لیا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر شام کو تیل منتقل کر کے دمشق پر عائد یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے جا رہا ہے۔

امریکا نے گذشتہ ہفتے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی بھی ملک اس تیل بردار جہاز کی مدد نہ کرے۔ امریکی وزارت خارجہ نے باور کرایا تھا کہ جبل طارق سے کوچ کر جانے والے ایرانی تیل بردار جہاز کی معاونت کو "دہشت گرد تنظیموں" کی سپورٹ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

جبل طارق کے حکام نے ایرانی تیل بردار جہاز کو 4 جولائی کو تحویل میں لینے کے بعد 15 اگست کو چھوڑ دیا تھا۔ اگرچہ امریکا نے جہاز کو ضبط کرنے کا پیشگی مطالبہ بھی کیا مگر جبل طارق کے حکام نے اس کو قابل التفات نہ سمجھا۔

اس سے قبل یہ خبریں بھی پھیلی تھیں کہ یہ تیل بردار جہاز یونان جانے کا امکان ہے۔ تاہم یونان کی حکومت نے اس کی تردید کر دی تھی۔ یونان کے نائب وزیر خزانہ نے واضح کیا تھا کہ تہران، واشنگٹن اور لندن کے درمیان سفارتی بحران جنم دینے والا یہ ایرانی تیل بردار جہاز یونان میں لنگر انداز نہیں ہو سکتا۔ نائب وزیر کے مطابق یہ ایک بہت بڑا تیل بردار جہاز ہے جس پر لدی کھیپ کا وزن 1.3 لاکھ ہزار ٹن سے زیادہ ہے لہذا یہ یونان کی کسی بھی بندرگاہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔

یونانی وزیر نے مزید بتایا کہ ان کی حکومت کو اس تیل بردار جہاز کے سبب امریکی حکام کی جانب سے "دباؤ کا سامنا کرنا پڑا"۔ تاہم وزیر نے باور کرایا کہ ایتھنز کی جانب سے واضح طور پر یہ پیغام بھیج دیا گیا کہ وہ کسی بھی صورت میں تیل کی شام منتقلی کو آسان بنانے کی خواہش نہیں رکھتا۔