.

رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای نے برطانوی ٹینکر کو پکڑنے کا حکم دیا تھا:کمانڈرپاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمانڈر نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ (سپریم لیڈر) آیت اللہ علی خامنہ ای نے برطانیہ کے پرچم بردار آئل ٹینکر اسٹینا امپرو کو تحویل میں لینے کا حکم دیا تھا۔

ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسداران انقلاب کی ائیروسپیس فورس کے کمانڈر امیر علی حاجی زادہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ خامنہ ای نے (تیل بردار جہاز کی ضبطی کا) حکم دیا تھا اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کیا گیا تھا۔‘‘

کمانڈر کے بہ قول ’’ جب انھوں ( خامنہ ای) نے کہا کہ برطانیہ کے اقدام کا جواب دیا جائے گا اور اس پر خاموش نہیں رہا جائے گا تو اس کے صرف 48 گھنٹے کے بعد ہی برطانوی جہاز کو پکڑ لیا گیا تھا۔سپریم لیڈر کے ان احکامات پر بھرپور طریقے سے عمل درآمد کیا گیا تھا۔‘‘

واضح رہے کہ امیر علی حاجی زادہ سپاہِ پاسداران انقلاب ایران کے ا ن آٹھ کمانڈروں میں سے ایک ہیں جن پر امریکا نے 24 جون کو پابندیاں عاید کردی تھیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ’’(رہبراعلیٰ نے) دوسرے شعبوں کے لیے بھی اسی قسم کے احکامات جاری کیے تھے۔‘‘

پاسداران انقلاب کی بحری فورس کے کمانڈروں نے 19 جولائی کو آبنائے ہُرمز کے نزدیک اسٹینا امپرو کو اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔انھوں نے یہ کارروائی دوہفتے قبل جبل الطارق میں ایران کے تیل بردار جہاز ادریان داریا اوّل ( سابق نام گریس اوّل) کو پکڑنے کے ردعمل میں کی تھی۔ برطانیہ کی شاہی بحریہ نے اس ایرانی جہاز کو شام پر عاید یورپی یونین کی پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں پکڑا تھا۔اس پر ایرانی تیل لدا ہوا تھا اور اس کو مبیّنہ طور پر شام کے لیے بھیجا گیا تھا۔

علی خامنہ ای نے گریس اوّل کو پکڑنے کی کارروائی کو برطانیہ کی ’ بحری قزاقی‘ قرار دیا تھا اور 16 جولائی کو خبردار کیا تھا کہ اسلامی جمہوریہ اور اس کے نظام کے وفادار ایجنٹ اس مذموم حرکت کا جواب دیں گے۔اس کے تین روز بعد سپاہِ پاسداران کی بحری فورس نے برطانوی جہاز کے خلاف چھاپا مار کارروائی کی تھی۔

قبل ازیں ایرانی حکام نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسٹینا امپرو کو بین الاقوامی جہاز رانی کے قانون کی خلاف ورزی پر تحویل میں لیا گیا تھا۔واقعے کے روز ہرمزگان کی میری ٹائم اتھارٹی کے سربراہ اللہ مراد عفیفی پور نے خبررساں ایجنسی تسنیم کو بتایا تھا: ’’ہمیں برطانوی تیل بردار جہاز اسٹینا امپرو کے حادثات کا موجب بننے سے متعلق رپورٹس ملی تھیں ،اس لیے ہم نے فوج سے اس جہاز کو بندرعباس کی جانب ضروری تحقیقات کے لیے لانے کی ہدایت کی تھی۔‘‘

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی 22 جولائی کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ ’’برطانوی جہاز کو بین الاقوامی قانون کے نفاذ کے لیے پکڑا گیا تھا اور برطانوی بحریہ کی کارروائی کے ردعمل میں ایسا نہیں کیا گیا تھا۔‘‘