.

ایرانی جوڈو چیمپیئن جرمنی میں پناہ لینے پر کیوں مجبور ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مارشل آرٹ کے ماہر اور ایرانی جوڈو چیمپیئن سعید ملائی ایرانی رجیم کی طرف سے انتقامی حربوں کے بعد جرمنی میں پناہ حاصل کرنے پرمجبور ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعید ملائی نے گذشتہ ماہ اگست میں جاپان میں مارشل آرٹ کے عالمی مقابلوں میں حصہ لیا جس کے بعد ایران میں موجود اس کے خاندان پرحکومت کی طرف سے دبائو بڑھ گیا تھا۔ وہ جاپان سے جرمنی چلا گیا جہاں اس نے پناہ کی درخواست کی ہے۔

امریکا کی فارسی ریڈیو سروس 'فردا' سے بات کرتے ہوئے ملائی نے کہا کہ تہران حکومت کی طرف سے میرے خاندان پردبائو ڈالا گیا کہ تاکہ وہ مجھے اسرائیلی ٹیم کے مقابلے میں کھیلنے سے روکے۔

بین الاقوامی جوڈو فیڈریشن کی طرف سے سعید ملائی کی ایرانی انتقانی حربوں کے بعد جاپان میں پناہ کی درخواست کی تصدیق کی ہے۔ فیڈریشن کی طرف سے ملائی کی مکمل تائید اور حمایت کی گئی ہے۔

جاپانی اخبار'اساھی شیمبن' نے جوڈو فیڈریشن کے چیئرمین ماریوس ویزر کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ سعید ملائی جرمنی میں ہیں اور وہ پناہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جرمنی میں سیاسی پناہ کے حصول کے لیے ملائی نے فیڈریشن سے مدد کی درخواست کی ہے۔ وہ جوڈو کے اولمپک کھیلوں کے مقابلوں میں حصہ لینے کا خواہش مند ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی جوڈو چیمپیئن سعید ملائی نے اگست میں جاپانی میں ہونے والےمارشل آرٹ کےعالمی مقابلوں میں حریفوں کو شکست دے کرپانچویں پوزیشن حاصل کی تھی۔