.

ایران کا جلد جوہری سمجھوتے کی مزید شرائط سے انحراف کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران آیندہ چند گھنٹے میں جولائی 2015 ء میں عالمی طاقتوں سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کے مزید تقاضوں کو پورا نہ کرنے کا اعلان کرنے والا ہے۔

ایران کے عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے سرکاری ٹیلی ویژن چینل العلم نے اطلاع دی ہے کہ جوہری سمجھوتے کی مزید شرائط پر اب عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔اس سے پہلے ایرانی صدر حسن روحانی نے جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے کے لیے یورپی طاقتوں کو مزید دو ماہ کی مہلت دینے کااعلان کیا تھا۔

دریں اثناء ایرانی حکام نے فرانس کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے ایران کو اس سال کے آخر تک پندرہ ارب ڈالرز نقد رقوم کی شکل میں دیے جائیں لیکن اس کی شرط یہ ہوگی کہ ایران جوہری سمجھوتے کی تمام شرائط کو پورا کرے اور اس نے اب تک جن شرائط سے پہلوتہی کا اعلان کیا ہے، ان پر عمل درآمد کرے گا۔

امریکا نے بدھ کوایران کے جہازرانی (شپنگ) کے نیٹ ورک پر پابندیاں عاید کردی ہیں اور کہا ہے کہ اس کو پاسداران انقلاب ایران چلا رہے تھے۔امریکا نے اس نیٹ ورک پر شامی صدر بشارالاسد کو مالی فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں بیرل تیل فروخت کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے ایران کے جہازرانی کے اس نیٹ ورک سے وابستہ سولہ اداروں ، دس افراد اور گیارہ جہازوں پر پابندیاں عاید کی ہیں۔محکمہ خزانہ کے اس اعلان سے چندے قبل ہی ایران نے کہا تھا کہ جب تک امریکا اس پردباؤ میں کمی نہیں کرتا، وہ اس وقت تک جوہری سمجھوتے کے تمام تقاضوں کو پورا نہیں کرے گا۔