.

ایران کا خلائی پروگرام بیلسٹک میزائلوں پر ایک پردہ ہے : پومپیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ امریکا ایرانی خلائی ایجنسیوں پر پابندیاں عائد کر رہا ہے کیوں کہ یہ ایجنسیاں ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق حساس سرگرمیوں میں شریک ہیں۔

منگل کے روز انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی سے مربوط سرگرمیوں کے سبب امریکا نے ایرانی شہری خلائی ایجنسیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس سے قبل امریکی وزارت خزانہ نے منگل کے روز بتایا کہ واشنگٹن نے ایران کی تین خلائی ایجنسیوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کی جانب سے تہران کے جوہری پروگرام پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان کے مطابق ایران کی خلائی ایجنسی، ایران اسپیس ریسرچ سینٹر اورآسٹروناٹیکس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

امریکا نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے خلائی پروگرام کو سیٹلائٹ چھوڑنے کے سول پروگرام کا نام دے کر ،،، بیسلٹک میزائلوں کو ترقی دینے کے واسطے استعمال کر رہا ہے۔

ایرانی خلائی ایجنسیوں پر حالیہ امریکی پابندیاں جمعرات کے روز ایران کے خمینی خلائی مرکز میں ہونے والے راکٹ دھماکے کے بعد عائد کی گئی ہیں۔ ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ دھماکا فنی خرابی کے سبب واقع ہوا۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک ذمے دار کے مطابق ایرانی خلائی ایجنسی کے ساتھ تعاون کی صورت میں امریکا مذکورہ نئی پابندیوں کو استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی کمپنیوں اور حکومتوں کو بڑی پابندیوں کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔

ذمے دار نے یہ بات شناخت کو خفیہ رکھنے کی شرط پر بتائی کیوں کہ وہ امریکی پابندیوں پر اعلانیہ طور پر گفتگو کرنے کا مجاز نہیں۔