.

ایران کے جہازرانی کے نیٹ ورک پر بھی امریکا کی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے بدھ کوایران کے جہازرانی (شپنگ) کے نیٹ ورک پر بھی پابندیاں عاید کردی ہیں اور کہا ہے کہ اس کوپاسداران انقلاب ایران چلا رہے تھے۔امریکا نے اس نیٹ ورک پر شامی صدر بشارالاسد کو مالی فائدہ دینے کے لیے لاکھوں بیرل تیل فروخت کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

امریکا کے محکمہ خزانہ نے ایران کے جہازرانی کے اس نیٹ ورک سے وابستہ سولہ اداروں ، دس افراد اور گیارہ جہازوں پر پابندیاں عاید کی ہیں۔محکمہ خزانہ کے اس اعلان سے چندے قبل ہی ایران نے جوہری سمجھوتے کی مزید شرائط کی پاسداری نہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔اس نے کہا تھا کہ جب تک امریکا اس پردباؤ میں کمی نہیں کرتا، وہ اس وقت تک جوہری سمجھوتے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرے گا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’’امریکا ایران کو اپنے خلائی پروگرام کو بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔‘‘

امریکا نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی شکل میں دباؤ میں مزید اضافہ کردیا ہے اور اس نے منگل کے روز اس کی تین خلائی ایجنسیوں پر پابندیاں عاید کی تھیں۔محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ایران کی خلائی ایجنسی ،ایران سپیس ریسرچ سنٹر اورآسٹروناٹیکس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں ایران سے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے اور نومبر میں ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں جس سے اس کی معیشت زبوں حال ہوچکی ہے۔امریکا نے تب سے ایران کے مختلف اداروں اور سرکاری شخصیات کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔