.

برطانیہ: پارلیمانی اکثریت کھو دینے کے بعد بورس جانسن قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ وہ دارالعوام (پارلیمان) میں اکثریت کھو دینے کے بعد اب قبل از وقت انتخابات کے مطالبے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے منگل کی شام کہی۔

ادھر پارلیمنٹ کے ارکان ایک یادداشت پر آمادہ ہو گئے ہیں جس کا مقصد 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے برطانیہ کے مقررہ خروج کو ملتوی کرنا ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں یادداشت کے متن کو 301 کے مقابلے میں 328 ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔

اس سے قبل منگل کی صبح بورس جانسن برطانوی دارالعوام میں اپنی اکثریت کھو بیٹھے تھے۔ یہ پیش رفت ان کی قدامت پسند جماعت کے ایک رکن کے منحرف ہو کر یورپی یونین نواز لبرل ڈیموکریٹس سے جا ملنے کے بعد سامنے آئی۔ جانسن نے منگل کی صبح جب دارالعوام میں فرانس میں گذشتہ ماہ منعقدہ گروپ سات کے سربراہ اجلاس سے متعلق بیان کا آغاز کیا تو کنزرویٹو پارٹی کے رکن فلپ لی فلور کراس کرتے ہوئے حزبِ اقتدار کی بنچوں سے حزب اختلاف کی جانب چلے گئے۔

رائے شماری کے اجلاس سے قبل حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اگر پارلیمنٹ نے اپنے سربراہ کی خواہش کے خلاف ووٹ دیا تو حکومت 14 کو قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کرے گی۔

ووٹنگ کے بعد جانسن نے پارلیمنٹ میں ایک یادداشت پیش کی تا کہ قبل از وقت انتخابات کے اجرا کی منظوری دی جا سکے۔ پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے دو تہائی ارکان کا آمادہ ہونا لازم ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ یادداشت پر ووٹنگ کے لیے اجلاس بدھ کے روز منعقد کر رہی ہے۔

بدھ کے روز ارکان پارلیمنٹ ایک قرار داد کے منصوبے پر بھی ووٹنگ کریں گے جس میں وزیراعظم سے مطالبہ کیا جائے گا کہ وہ بریگزٹ کے التوا کے واسطے برسلز (یورپی یونین) سے منظوری حاصل کریں۔