.

ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی ایران پر پابندیوں کے باوجود حسن روحانی سے ملاقات کے خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنی انتظامیہ کی عاید کردہ نئی اقتصادی پابندیوں کے باوجود صدرحسن روحانی سے اپنی ملاقات کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

ان سے جب بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں پوچھا گیا کہ کیا ان کی اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پرایرانی لیڈر سے ملاقات ہوسکتی ہے؟اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا:’’یقیناً،کچھ بھی ممکن ہے‘‘۔

قبل ازیں بدھ کو ایرانی صدر حسن روحانی نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک چھے بڑی طاقتوں سے جولائی 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کے مزید تقاضوں پر عمل درآمد نہیں کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مئی 2018ء میں ایران سے طے شدہ اس جوہری سمجھوتے سے دستبردار ہوگئے تھے اور ان کی انتظامیہ نے اسی سال نومبر میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔ ان میں ایران کی تیل کی برآمدات اور بنک کاری کے شعبے کو ہدف بنایا گیا تھا۔

ان کے اس اعلان کے چند گھنٹے کے بعد ہی امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف مزید پابندیاں عاید کردی ہیں اور ان میں اس کے جہاز رانی کے ایک نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب اس نیٹ ورک کو تیل کو اسمگل کرنے کےلیے استعمال کررہے تھے۔

دریں اثناء ایرانی حکام نے فرانس کی اس تجویز کا خیرمقدم کیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ جوہری سمجھوتے کو بچانے کے لیے ایران کو اس سال کے آخر تک پندرہ ارب ڈالرز نقد رقوم کی شکل میں دیے جائیں لیکن اس کی شرط یہ ہوگی کہ ایران جوہری سمجھوتے کی تمام شرائط کو پورا کرے اور اس نے اب تک جن شرائط سے پہلوتہی کا اعلان کیا ہے، ان پربھی عمل درآمد کرے۔

مگر امریکی محکمہ خارجہ کے رابطہ کار برائے ایران برائن ہُک نے فرانس کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے۔