.

امریکا یمنی حوثیوں سے مذاکرات کررہا ہے:محکمہ خارجہ کے عہدہ دار کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے پہلی مرتبہ اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکا یمن میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے مذاکرات کررہا ہے۔

محکمہ خارجہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے مشرق قریب امور ڈیوڈ شینکر نے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہم یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے بھرپور توجہ مرکوز کررہے ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’ہم مذاکرات کے ذریعے تنازع کا باہمی طور پر قابل قبول حل چاہتے ہیں اور اس مقصد کی غرض سے حوثیوں سے بات چیت کررہے ہیں‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور حوثیوں کے درمیان یمن میں گذشتہ قریباً چار سال کے دوران میں یہ پہلا براہ راست رابطہ ہے۔امریکا کے سابق صدر براک اوباما کے دورِ حکومت میں جون 2015ء میں امریکی حکام نے حوثی لیڈروں سے مختصر بات چیت کی تھی اور انھیں جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیراہتمام امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

مگر جنیوا میں یہ امن عمل اور اس کے بعد سویڈن میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام مذاکرات تنازع کے حل کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے تھے۔اب جنگ کی وجہ سے عرب دنیا کے غربت زدہ ملک یمن میں لاکھوں افراد قحط سے دوچار ہیں اور انھیں بنیادی انسانی ضروریات دستیاب نہیں ہیں۔

حوثی ملیشیا نے ستمبر 2014ء میں صدرعبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت برپا کردی تھی اور دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد سے لڑائی میں ہزاروں یمنی ہلاک ہوچکے ہیں اور جنگ زدہ ملک میں اقوام متحدہ کے مطابق بدترین انسانی بحران پیدا ہوچکا ہے۔