.

ایردوآن روسی صدر پوتین کے ہاتھ میں کھلونا بن چکے ہیں:فارن پالیسی میگزین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کو دونوں ایک دوسرے کا قریبی دوست ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو اپنے اپنے مفادات کے لیے خوب استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اس باب میں روسی صدر کافی چالاک واقع ہوئے اور وہ ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کو بھرپور طریقے سے استعمال کررہے ہیں۔

فارن پالیسی میگزین کے ایک حالیہ مضمون میں اسٹیفن کوک نے لکھا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوان اپنی مرضی سے واشنگٹن میں چالیں چل رہےہیں ۔ دھوکہ دہی اور دھمکیوں اور پھر دھمکیوں اور دھوکہ دہی کے امتزاج کے ذریع اردوآن نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کو شمالی شام میں ایک ایسے معاہدے پر راضی ہونے پر قائل کیا ہے جس سے ترکی کی کی شام میں چڑھائی کو روکنے میں مدد ملے گی۔ کردوں کی رائے کچھ بھی ہو ، ان کے عزم اور قربانی کو بین الاقوامی مفاد عامہ سمجھا جانا چاہئے ، کیونکہ انہوں نے جدید دنیا کے مشہور خطرناک عسکریت پسند گروپوں میں سے ایک(داعش) کو روکا اور اسے ختم کردیا ہے۔ اس کے برعکس ، ترکوں نے کبھی بھی اس کوشش میں حصہ نہیں لیا۔

تاہم اگر اردوآن نے واشنگٹن سے ہیرا پھیری کی تو روسی صدر ولادی میر پوتین نے بدلے میں ان سے بالکل ایسی ہی چالیں چلیں

اردوآن نے ابھی ماسکو کا دورہ مکمل کیا ہے ، جہاں پوتین نے 'سمجھدارترک' رہ نما کو انتہائی متاثر کن روسی فوجی سازوسامان کی پیش کش کی ہے، جس میں 'ایس یو 35' اور 'ایس یو 57' لڑاکا طیارے شامل ہیں۔ روس کے ان جنگی طیاروں کو نئی جنریشن کے امریکی 'ایف 35' کا ہم عصر اور برابر کے لڑاکا طیارے کہا جاتا ہے۔

ترک صدر نے ماسکو کا حالیہ دورہ ترکی کو S-400 فضائی دفاعی نظام کی بیٹریوں کی فراہمی کے بعد کیا ہے۔ انقرہ نے بار بار خبردار کیا ہے کہ بیٹریاں روسیوں کو F-35 کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی کو ڈیکرپٹ کرنے کا موقع فراہم کریں گی جس سے پورے لڑاکا پروگرام کی سیکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ترکی نہ صرف مستقبل میں 100 سے زیادہ ایف -35 جنگی طیاروں سے فائدہ اٹھانے والا تھا ، بلکہ ان طیاروں کی تیاری میں امریکا کا شراکت دار بھی تھا۔ واشنگٹن نے ترکی کو 'ایف -35' کے بہت سے اجزاء تیار کرنے کی پیش کش کی ، جس میں 'ایر فریم' کے کچھ حصے بھی شامل ہیں۔ انقرہ برآمدی فروخت میں اربوں ڈالر کما سکتا تھا اور اسلحہ کی صنعت میں قیمتی تکنیکی مہارت حاصل کرسکتا تھا۔

تعجب کی بات نہیں کہ ایس -400 پر ترکی کے اصرار نے امریکا اور ترکی کے تعلقات میں بحران پیدا کردیا۔ امریکا کے پاس ترکی کو 'ایف 35' سے بے دخل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ترکی کے لئے لاگت بہت زیادہ ہے: وہ لڑاکا طیاروں کے اپنے ازکار رفتہ جنگی بیڑے کو جدید نہیں بنا سکتا تھا ، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس نے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور اربوں ڈالر برآمدی مواقع حاصل کرنے کا موقع کھو دیا ہے۔ اس کے بجائےولادی میر پوتین نیٹو کےدو دیرینہ اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا کرکے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔

طیب ایردوآن کا خیال ہوگا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ انہیں بچانے کی کوشش کریں گے یا یہ کہ امریکی اپنی دھمکیاں جاری نہیں رکھیں گے۔ تاہم یہ ایک غیر معمولی فیصلہ تھا ، کیوں کہ جب وہ پوتین سے رابطہ کرتے ہیں تو وہ اپنی دفاعی صنعتوں اور واشنگٹن سے اچھے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پوتین کی منظوری کے رحم و کرم پر انحصار کرتے ہوئے وہ اشارہ دے رہے ہیں کہ ترکی روسی لڑاکا خریدنے پر غور کرے گا۔ انقرہ کو یہ اندازہ ہوگا کہ ایسا کرنے سے وہ امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات میں دراڑ کو گہرا کرے گا۔

اگرچہ اردگان نے پوتین کی طرف داری اور قربت کا راستہ اختیار کرکےامریکا کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچایا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں رہ نما شام کے محاذ پر ایک دوسرے کے مخالف اور فریق ہیں۔ روس نے ایران کے ساتھ مل کر شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو بچایا جبکہ انقلاب کے آغاز ہی سے ترکوں نے جہادی تنظیموں سمیت شامی حزب اختلاف کی حمایت کی۔ ترکی نے روسیوں کے ساتھ ادلب صوبے میں حزب اختلاف کے آخری گڑھ کے مستقبل کے بارے میں روس سے بات چیت کی تھی جس کے نتیجے میں شامی حکومت کی جانب سے اس علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے کی بودی کوششوں کی وجہ سے وہ معاہدہ ناکام ہوچکا ہے۔

ترکی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے تھی کہ ایک بار جب اسد حکومت نے اپنا کنٹرول مستقل طور پر کہیں اور مضبوط کرلیا تو وہ ادلب پر توجہ دے گی۔ پچھلے مہینے ، ترکی کے ایک فوجی قافلے کو روسی ساختہ طیارے کی طرف سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ ترکی کی بکتر بند گاڑیوں میں سفر کرنے والی ایک چھوٹی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ پہلا موقع نہیں جب اردوآن اور پوتین کی وفادار فورسز میں جھڑپ ہوئی ہے مابین لڑائی ہوئی ہو۔ 2015 میں ، ترکی نے اپنی فضائی حدود میں گھسنے والےروسی لڑاکا کو مار گرایا تھا۔