.

جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سے علاحدہ کرنے کی کوششوں پر احمد داؤد اولو کا جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے سابق وزیراعظم احمد داؤد اولو نے "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" کی جانب سے انہیں ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کیا ہے۔ اولو نے پارٹی کی پالیسیوں اور اس کے سربراہ رجب طیب ایردوآن پر تنقید کی تھی۔

اولو کی جانب سے کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا کہ "یہ وہ بنیادی اصول ہیں جن کو جسٹس اینڈ ڈیولمپنٹ پارٹی کی انتظامیہ جاری کرنا چاہتی ہے .. ہم اپنے موقف اور کہی ہوئی بات پر ڈٹے رہیں گے"۔ اولو کا اشارہ اپنے سابقہ بیان کی جانب تھا جس کے سبب انہیں تادیبی کمیٹی کے سامنے لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ترکی کے حلقوں کو آئندہ دنوں میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کے اجلاس کا انتظار ہے۔ اجلاس میں احمد داؤد اولو اور تین دیگر سابق ذمے داران کو پارٹی سے علاحدہ کرنے کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔ اس دوران توقع کی جا رہی ہے کہ مذکورہ چاروں شخصیات ڈسپلنری کمیٹی کے اجلاس سے قبل پارٹی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے۔

سابق وزیراعظم اولو اور دیگر تین سابق ذمے داران کو ڈسلپنری کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا اقدام پارٹی کی تاریخ میں اپی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

حکمراں جماعت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ سابق ذمے داران کے مستعفی ہونے سے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے مزید ارکان کے استعفوں کا دروازہ کھل جائے گا۔

احمد داؤد اولو نے چند روز قبل دھمکی دی تھی کہ وہ پرانے کھاتے کھول کر اپنی جماعت "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ" پارٹی کی قیادت کی کارستانیوں کا اسکینڈل منظر عام پر لے آئیں گے۔ اس کے جواب میں صدر رجب طیب ایردوآن نے سابق وزیراعظم اولو اور تین دیگر سابق عہدے داران کو ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کر دیا۔

ترک میڈیا کے مطابق ایسی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں جن کے مطابق داؤد اولو قدامت پسندوں کی مقرب ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔