.

سابق سوڈانی عہدیدار پرپونے سات لاکھ یورو منی لانڈرنگ کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کی اسلامی فقہ اکیڈمی کے سابق سربراہ اور نیشنل کانگریس پارٹی کے رہنما عصام احمد البشیر پرترکی میں 6 لاکھ 80ہزار یورو کی رقم کی منی لانڈرنگ کے الزام میں عائد کیا گیا ہے۔

سوڈان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی سے متعلق فنانسنگ پراسیکیوشن نے معزول حکومت کے رہنما عمر البشیر کے قریبی ساتھی عصام البشیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ ان پر بیرون ملک سفر پرپابندی کےساتھ ان کے اندرون ملک تمام اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں۔ البشیرپرالزام ہے کہ انہوں نے ایک ترک بنک کے ذریعے چھ لاکھ 80 ہزار یورو کی رقم غیرقانونی طورپر بیرون ملک منتقل کی تھی۔

ویب سائٹ "ٹاسٹی نیوز" مطابق بدعنوانی کے خلاف سابقہ انسداد بدعنوانی سپریم کمیٹی عصام البشیر کے بیرون ملک اکاؤنٹ سے رقوم کی منتقلی کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے جس کے بعد یہ کیس منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی اعانت سے نمٹنے کے معاملے کے لیے قائم کردہ پراسیکیوٹر احمد سلیمان العوض کے سپرد کردیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ استغاثہ نے اس شبے کی تفتیش کی اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ شخص نے خرطوم کے ایک مشہور بینک میں اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ترکی کے ایک بینک میں ھ لاکھ 80 ہزار یورو کی رقم بینک ٹرانزیکشن کی۔

اگست کے آخر میں عدالت نے عمر البشیر پر غیر ملکی فنڈز کے غیر قانونی قبضے اور ناجائز دولت کے الزام میں فرد جرم عائد کی۔

عدالت کے جج ، صادق عبد الرحمن البشیر نے کہا' آپ پر 16 اپریل 2019 کو اپنے گھر میں 6.9 ملین یورو ، تین لاکھ 51 ہزار 770 ڈالر اور 5.7 ملین سوڈانی پاؤنڈ غیرقانونی طورپرچھپانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے'۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ، البشیر نے اعتراف کیا کہ اسے غیر ملکی عہدیداروں سے رقم ملی ہے ، لیکن انہوں نے کہا کہ یہ رقم ذاتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کی گئی۔