.

فرانس کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے حوالے سے پیرس کا ایران کو انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کا کہنا ہے کہ ایران کوئی بھی ایسا برا اشارہ بھیجنے سے گریز کرے جو ہماری کوششوں کو نقصان پہنچائے۔

جمعرات کے روز فرانسیسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ پیرس نے کشیدگی میں کمی لانے کے لیے بڑی کوششیں کی ہیں ... ضرورت اس بات کی ہے کہ جوہری معاہدے کی کوئی نئی خلاف ورزی سامنے نہ آئے اور اس سمجھوتے کی مکمل پاسداری کو یقینی بنایا جائے ... یہ دونوں باتیں اس عمل کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں۔

فرانسیسی وزارت خارجہ کے بیان میں اس امر کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا گیا ہے کہ تہران کی جانب سے ایسا کوئی عمل سامنے نہیں آئے جس سے برے اشارے ملیں کیوں کہ یہ چیز "جارحیت روکنے کی کوششوں" کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اس سے قبل ایرانی صدر حسن روحانی نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے جوہری تحقیق اور ترقی کے شعبوں میں عائد کسی بھی قدغن سے دست بردار ہونے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

ایرانی صدر نے بدھ کو رات گئے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر تقریر میں کہا کہ "میں اس وقت تیسرے اقدام کا اعلان کر رہا ہوں۔ ایران کی جوہری توانائی تنظیم کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ فوری طورپر تحقیق اور ترقی کے شعبے میں جو کچھ بھی درکار کام ہے، وہ شروع کردے اور تحقیق وترقی کے ضمن میں جو بھی پابندیاں عائد ہیں، ان سے دست بردار ہوجائے"۔

ایرانی صدر کے اعلان کردہ تیسرے اقدام میں سینٹری فیوجز کی ترقی شامل ہے۔

اس سے پہلے یورپی یونین نے ایران پر زور دیا تھا کہ وہ ایسے اقدامات سے رک جائے جن سے 2015 میں عالمی طاقتوں اور تہران کے درمیان دستخط ہونے والے جوہری معاہدے کے سبوتاژ ہونے کا خطرہ ہو۔ یونین نے تہران کے ساتھ بحران سے نکلنے اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں کشیدگی کم کرنے کے لے سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کیا تھا۔