.

گزرا برس ایران کی آخری نصف صدی کا بدترین سال تھا : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ "ایران کو اقتصادی طور پر کُچلا جا رہا ہے اور وہ اپنے مسائل کے حل کے واسطے کوشاں ہے"۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ "ایران مذاکرات کرنے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کا خواہاں ہے"۔

امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ ایران پر عائد پابندیاں اٹھائی نہیں جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ سال ایران نے اپنے آخری پچاس برسوں کا بدترین وقت گزارا۔

بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کی جانب سے سوالات کے دوران ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پرایرانی لیڈر سے ملاقات ہو سکتی ہے؟ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ "یقیناً، کچھ بھی ممکن ہے ... وہ اپنی مشکلات کا حل چاہتے ہیں ... ہم انہیں 24 گھنٹوں کے اندر حل کر سکتے ہیں"۔

امریکی صدر نے جی - سیون سربراہ اجلاس کے دوران اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں کی کوششوں کا بھی خیر مقدم کیا۔ تاہم انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے ملک کو مذاکرات کے لیے کسی کی ضرورت نہیں۔

امریکا نے آج پابندیوں کے نئے پیکج کا اعلان کیا ہے جس میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائٹ کے مطابق پابندیوں میں 16 ادارے اور 10 شخصیات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 11 بحری جہازوں کو بھی بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔