.

برطانوی وزیراعظم کی تقریر کے دوران خاتون پولیس اہلکار بے ہوش: ویڈیو وائرل

تقریر جاری رکھنے پر بورس جانسن پر سوشل میڈیا پرتنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جمعرات کے روز شمالی انگلینڈ میں پولیس کالج میں ایک تقریب سے خطاب میں اس وقت ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جب وہ تقریر کررہےتھے تواچانک ان کے پیچھے کھڑی ایک خاتون پولیس اہلکار تھکاوٹ کے باعث بے ہوش ہوگئی۔ بورس جانسن نے خاتون پولیس اہلکار کی طرف پیچھے مڑ کردیکھا مگراپنی تقریر جاری رکھی جس پرانہیں عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا ہے۔

اس واقعے کی ایک فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسےبڑے پیمانے شیئرکرنے کے ساتھ اس پرتبصرے بھی کیے جا رہےہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق شمالی انگلینڈ میں یارکشائر پولیس کالج کے طلباء سے خطاب کے دوران نوجوان خاتون پولیس اہلکار وزیر اعظم بورس جانسن کے بالکل پیچھے کھڑی تھی اور اس کے ارد گرد وزیراعظم کے اسکواڈ میں شامل دیگر اہلکاربھی قطار میں کھڑی تھیں۔ اس دوران ایک اہلکار پر تھکاوٹ تھکاوٹ کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ بورس جانسن اس کی طرف متوجہ ہوئے اور اس سے پوچھا کہ کیا وہ ٹھیک ہیں؟ اس کے بعد خاتون اہلکار کی پرواہ کیے بغیر اپنی تقریر جاری رکھی۔ جبکہ پولیس اہلکار نیم بے ہوشی کے عالم میں زمین پر بیٹھ گئی۔

تاہم ، وزیر اعظم نے مذاق کیا اور کہا کہ 'مجھے افسوس ہے، شاید یہ اس بات کی علامت ہے کہ مجھے اپنی بات جلدی ختم کرنی چاہیے'۔

وزیر اعظم نے اپنی تقریر ختم کرنے سے چند لمحے پہلے ہی پولیس خاتون کو ہوش آیا۔

سوشل میڈیا پر بورس جانسن کے طرز عمل پرسخت تنقید کی جا رہی ہے۔ شیڈو ہوم سکریٹری ڈیان ایبٹ نے کہا کہ 'جانسن نے ان پولیس طلباء کو انتظار کرنے پر مجبور کیا اور ان میں سے ایک بیہوش ہو گیا۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ کیا ہوا لیکن اسے نظرانداز کیا۔اس سے ہمیں اس شخص کی نوعیت کا پتہ چلتا ہے۔"

لیبرپارٹی کے رکن یویٹی کوپر نے لکھا "ان پولیس طلباء کو اپنی تعلیم ختم کرنے اور سیاسی تدبیر میں کام کرنے پر مجبور کرنا طاقت کا من مانا استعمال ہے۔"