.

جانسن اور نیتن یاہو ایران کے تخریبی برتاؤ کو لگام دینے پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن اور ان کے اسرائیلی ہم منصب بنیامین نیتن یاہو نے اس بات کی ضرورت پر اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے اور تہران کی جانب سے عدم استحکام کا باعث بننے والے تخریبی رویے کو لگام دی جائے۔

یہ موقف جمعرات کے روز لندن میں نیتن یاہو اور بورس جانسن کے دورمیان ہونے والی بات چیت کے دوران سامنے آیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور سیکورٹی روابط کو گہرا بنانے اور مشرق وسطی میں امن عمل کے لیے حلوں کی تلاش کے موضوعات زیر بحث آئے۔

برطانوی وزیراعظم کی ترجمان نے بتایا کہ بورس جانسن نے ایران کے مسئلے کے حوالے سے مکالمے اور سفارتی حل پر زور دیا۔

برطانوی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بورس جانسن اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قابل نفاذ امن معاہدے کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کی تفصیلی تجاویز دیکھنے کے خواہاں ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کو اسرائیلی وزیراعظم نے عالمی طاقتوں پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کا دروازہ نہ کھولیں۔ نیتن یاہو کا یہ موقف امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام اور اس پر عائد پابندیوں سے متعلق بحران کے حل کے واسطے اپنے ایرانی ہم منصب سے ملاقات کر سکتے ہیں۔

لندن روانگی سے قبل نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ "یہ وقت ایران کے ساتھ بات چیت کا نہیں بلکہ اس پر دباؤ میں اضافے کا ہے"۔

اسی طرح نیتن یاہو نے بورس جانسن سے ملاقات کے بعد کہا کہ "میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو مسترد نہیں کر رہا اور نہ میں نے امریکی صدر سے یہ کہا کہ وہ کس کے ساتھ بیٹھیں اور کس کے ساتھ نہیں ... مجھے بھروسہ ہے کہ وہ عام روش کے برخلاف پورے عزم کے ساتھ اس معاملے کی جانب متوجہ ہوں گے"۔

بنیامین نیتن یاہو لندن میں امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر سے ملاقات کریں گے۔ دونوں شخصیات شام، لبنان اور عراق کی صورت حال پر تبادلہ خیال کریں گے۔