.

سوڈان میں تبدیلی کی علامت ولاء البوشی انقلابی حکومت میں وزیر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے ہزاروں نوجونواں کی طرح تبدیلی کی علم ایک دوشیزہ سابق صدرعمر البشیر کی برطرفی کے بعد تشکیل پانے والی پہلی'انقلابی حکومت' میں وزارت کا قلم دان حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ولاء البوشی خرطوم کی شاہرائوں پر 'گو بشیر گو' کے نعرے لگانے والے نوجوانوں میں پیش پیش رہی۔ انقلاب کے لیے اس کی جدوجہد کے اعتراف میں نئی حکومت نے اسے وزارت امور نوجوانان کا قلم دان سونپا ہے۔

ولاء البوشی سودان کی کوئی معروف شخصیت نہیں اور نہ ہی اس کا تعلق کسی بڑے سیاسی خانوادے کے ساتھ ہے۔ اسے سب سے پہلے سنہ 2016ء سابق امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات کرتے دیکھا گیا۔ وہ اوباما کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اپنے پیارے ملک پرعاید کردہ امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کررہی تھی۔

سوشل میڈیا پر اس نے وضاحت کی تھی کہ میں نے اوباما کے کان میں کہا تھا کہ ہمارے ملک پرعاید کی گئی پابندیاں ہٹا دیں کیونکہ ان پابندیوں کے نتیجے میں سوڈانی عوام کو سنگین معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔

اس نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر پوسٹ ایک بیان میں لکھا کہ 'میں اوباما سے ملاقات میں اپنی اور اپنے ہم وطن شہریوں کا مشترکہ مطالبہ پہنچانے کی کوشش کی۔ وہ یہ سوڈان پر عاید کی گئی معاشی پابندیاں ہٹائی جائیں۔

انقلابی حکومت میں شامل ولاء البوشی کون؟

ولاء البوشی نے امپریل کالج یونیورسٹی سے ایڈوانس میکینکل انجینیرنگ، سکینڈری فلیوڈ اینڈ ایئرکرافٹ انجن' کے شعبے میں ایم ایس سی کیا۔ دو روز تشکیل پانے والی وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی کابینہ میں اسے وزارت کھیل اور امور نوجوانان کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

سوڈان میں چند ماہ قبل جب عوامی سطح پر صدر عمر البشیر کے خلاف تحریک اٹھی تو اس میں پیش پیش رہنے والے نوجوانوں میں ولاء البوشی کا نام بھی ابھر کرسامنے آیا۔ وہ سوشل میڈیا پر انقلاب کی ایک توانا آواز بن کرسامنے آئی۔

وزارت کاقلم دان ملنے کے بعد اس نے سوشل میڈیا پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ 'میرے نوجوان ساتھیو! میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ میں انقلابی حکومت کی وزیر بننے پر دکھی ہوں۔ تاریکی کا دور گذر چکا اور ہم ایک نئے اور روشن دور میں داخل ہوگئے ہیں۔ یہ سب ہمارے نوجوانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اب ہم نئی تاریخ رقم کریں گے اور اس تاریخ سازی میں نوجوان ہمارا اثاثہ ہوں گے'۔

ولاء البوشی کو وزارت کا قلم دان سونپے جانے پرعوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور وزیراعظم عبداللہ حمدوک کو ولاء کو وزارت کو دینے پر مبارک باد پیش کی ہے۔