.

ایران کا ٹینکرادریان داریا1 منزلِ مقصود پر پہنچ گیا، لدا تیل فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کو مطلوب ایران کا تیل بردار جہاز بحرمتوسطہ میں سفر کرتا ہوا شام میں اپنی منزل مقصود پر پہنچ گیا ہے اور اس پر لدا ہوا تیل فروخت کردیا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق وزارتِ خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نےاتوار کو یہ اطلاع دی ہے لیکن یہ وضاحت نہیں کی ہے کہ یہ کہاں پہنچا ہے اور اس پر لدے ہوئے خام تیل کو کس ملک یا ادارے کو فروخت کیا گیا ہے۔آیا وہ اس کے حوالے کردیا گیا ہے یا ابھی تک ٹینکر پر ہی لدا ہو اہے؟

البتہ ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ آبنائے ہُرمز میں تحویل میں لیے گئے برطانوی ٹینکر کو قانونی کارروائی کی تکمیل کے بعد جلد چھوڑ دیا جائے گا۔

ایرانی تیل بردار جہاز ادریان داریا1گذشتہ ہفتے شام کے ساحلی علاقے میں غائب ہو گیا تھا اور پھر اس کی شام کی بندرگاہ طرطوس میں لنگرانداز ہونے کی سیٹلائٹ تصاویر منظرعام پر آئی تھیں۔

جہازرانی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ خرید وفروخت کا عمل مکمل ہونے کے بعد اس ٹینکر پر لدے تیل کو کسی اور بحری جہاز پر منتقل کردیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکا کے محکمہ خزانہ نے گذشتہ سے ہیوستہ جمعہ کو ادریان داریا کو بلیک لسٹ کردیا تھا اور اس نے خطے کے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس کو قبول کرنے سے گریز کریں۔اس جہاز پر اکیس لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہےاور اس کی مالیت تیرہ کروڑ ڈالر بتائی گئی تھی۔

امریکا نے دوسرے ممالک کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس جہاز کی کسی بھی طرح کسی قسم کی مدد سے باز رہیں ۔ اگر انھوں نے ایسا کیا تو انھیں ایرانی دہشت گرد تنظیم کا مددگار سمجھاجائے گا۔اس سے اس کی مراد سپاہِ پاسداران انقلاب تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔

چار جولائی کواس آئیل ٹینکر(سابق نام گریس اوّل) کو جبل الطارق میں برطانیہ کی شاہی بحریہ نے یورپی یونین کی شام پر پابندیوں کی خلاف ورزی کے الزام میں تحویل میں لے لیا تھا۔اس کے دو ہفتے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے خلیج میں برطانیہ کے ایک پرچم بردار جہاز کو پکڑ لیا تھا اور ابھی تک اس کو نہیں چھوڑا ہے۔

جبل الطارق کے ایک جج نے پندرہ اگست ایرانی آئل ٹینکر کو چھوڑنے کا حکم دیا تھا اور اس کے بعد جبل الطارق کے حکام نے اس شرط پر اس کو چھوڑنے کا حکم دیا تھا کہ اس پر لدے تیل کو شام نہیں بھیجا جائے گا۔ایرانی حکام نے گذشتہ ہفتے بھی یہ کہا تھا کہ اس پر لدے تیل کو کسی نامعلوم خریدار کو فروخت کردیا گیا ہے۔

اس آئل ٹینکر کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے۔امریکا نے الزام عاید کیا کہ سپاہِ پاسداران انقلاب ایران نے شام کو ایرانی تیل بھیجنے کے لیے غیر قانونی طور پر امریکا کے مالیاتی نظام تک رسائی کی کوشش کی تھی۔

امریکی محکمہ خزانہ کی دستاویز کے مطابق ’’اس اسکیم میں سپاہِ پاسداران انقلاب سے وابستہ کئی ایک پارٹیاں ملوّث ہیں۔نیز گریس اوّل نے فریب دینے کے لیے ایک طویل سمندری سفر اختیار کیا تھا۔پاسداران کی ہراول ( فرنٹ) کمپنیوں نے اس طرح تیل اور مال بردار جہازوں کے لیے مبیّنہ طور پر کروڑوں ڈالر کی رقم کو ’’مصفا‘‘ (لانڈر) کیا ہے۔‘‘